Saturday, April 25, 2026 | 07 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • اغوا اور قتل کیس میں 31 سالوں سے مفرور 'ایکس مسلم' سلیم واستک گرفتار

اغوا اور قتل کیس میں 31 سالوں سے مفرور 'ایکس مسلم' سلیم واستک گرفتار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 25, 2026 IST

 اغوا اور قتل  کیس میں 31 سالوں سے مفرور  'ایکس مسلم' سلیم واستک گرفتار
نئی دہلی: دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلام کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانے والے'ایکس مسلم' سلیم واستک کو   قتل  کیس میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ حال ہی میں اس پر ہوئے قاتلانہ حملے کے بعد وہ اچانک سرخیوں میں آگیا تھا اور ملک بھر کے ہندوتوا لیڈر ان انکی حمایت میں سامنے آگئے تھے۔
 
اطلاعات کے مطابق دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے اسے 31 سال پرانے اغوا اور قتل کے کیس میں گرفتار کیا ہے جس میں وہ مفرور چل رہا تھا۔ دراصل سال 1995 کے ایک سنگین جرم میں سلیم واستک قصوروار پایا گیا تھا اور برسوں سے قانون سے بچتا پھر رہا تھا۔
 
 کیا تھا پورا معاملہ؟
 
پولیس کے مطابق یہ معاملہ سال 1995 کا ہے جب شمالی مشرقی دہلی کے ایک تاجر کے 13 سالہ بیٹے سندیپ بنسل کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اگلے دن اغوا کاروں نے فون کر کے 30,000 روپے تاوان مانگا اور بچے کے قتل کی دھمکی دی تھی۔ تاوان کی رقم نہ ملنے پر بچے کو قتل کر دیا گیا تھا۔
 
اس معاملے کی تفتیش کے دوران پولیس کو سلیم خان (جو اب سلیم واستک بن چکا ہے) پر شک ہوا، جو اس وقت اس بچے کے اسکول میں مارشل آرٹس کی ٹریننگ دیتا تھا۔ جب پولیس نے اس سے پوچھ گچھ کی تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور اس کی نشاندہی پر بچے کی لاش بھی برآمد کر لی گئی۔ سلیم پر مقدمہ چلا اور سال 1997 میں عدالت نے اسے اور اس کے ساتھی انیل کو عمر قید کی سزا سنائی۔
 
 شناخت بدل کر مفرور رہا:
 
سال 2000 میں دہلی ہائی کورٹ سے ملنے والی عبوری ضمانت کے بعد سلیم مفرور ہو گیا اور پھر پولیس کے ہاتھ نہیں آیا۔ بعد میں اس نے لوئر کورٹ کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جہاں 2011 میں ہائی کورٹ نے اس کی سزا کو برقرار رکھا۔ لیکن تب تک سلیم اپنی پرانی شناخت مٹا چکا تھا اور الگ الگ جگہوں پر ٹھکانے بدل کر رہنے لگا تھا۔
 
سلیم خان نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے خود کو مردہ قرار دے دیا تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنا نام بدل کر سلیم احمد عرف سلیم واستک رکھ لیا۔ وہ ہریانہ اور یوپی میں ٹھکانے بدلتا رہا اور آخر کار غازی آباد کے لونی علاقے میں بس گیا، جہاں وہ کپڑوں کا کاروبار کرنے لگا۔
 
 ایکس مسلم یوٹیوبر کے طور پر شہرت:
 
بعد ازاں اس نے خود کو اسلام سے خارج اور 'ایکس مسلم' کے طور پر مشہور کرنا شروع کیا۔ وہ ایک معروف یوٹیوبر کے طور پر سامنے آیا اور اسلام کے خلاف بیانات دینے لگا۔ اس کی وجہ سے کئی ہندو تنظیموں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اسے کافی عزت دی گئی۔
 
اسی سال کے آغاز میں 27 فروری 2026 کو غازی آباد کے لونی علاقے میں واقع اس کے گھر اور دفتر میں گھس کر دو حملہ آوروں نے دھاردار ہتھیار سے اس کا گلا ریت دیا اور جسم پر کئی وار کیے۔ اسے بروقت اسپتال پہنچایا گیا جہاں علاج کے بعد اس کی جان بچ گئی۔ اس پر حملہ کرنے والے دو بھائیوں کو پولیس نے انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم، اب اس کی پرانی مجرمانہ تاریخ سامنے آنے کے بعد کرائم برانچ نے اسے حراست میں لے لیا ہے۔