Sunday, August 30, 2026 | 15 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • آواز میں مسلسل بھاری پن کو نظر انداز نہ کریں، لیرنکس کینسر پر اہم جانکاری

آواز میں مسلسل بھاری پن کو نظر انداز نہ کریں، لیرنکس کینسر پر اہم جانکاری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 29, 2026 IST

آواز میں مسلسل بھاری پن کو نظر انداز نہ کریں، لیرنکس کینسر پر اہم جانکاری
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Cancer of the Voice Box (Larynx)" کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی نشست پیش کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ارشد حسین حکیم، کنسلٹنٹ سرجیکل آنکولوجسٹ، اپولو ہاسپٹلس، جوبلی ہلز، حیدرآباد نے حلق اور آواز کی نالی کے کینسر سے متعلق اہم سوالات کے جواب دیتے ہوئے اس کی ابتدائی علامات، وجوہات، تشخیص، علاج اور بچاؤ کے طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
 
ڈاکٹر ارشد حسین نے بتایا کہ Larynx کو عام طور پر وائس باکس کہا جاتا ہے۔ یہ گلے کا وہ حصہ ہے جہاں آواز پیدا ہوتی ہے اور سانس لینے کے راستے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب اس حصے کے خلیات غیرمعمولی انداز میں بڑھنے لگیں تو لیرنکس کینسر پیدا ہو سکتا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی ابتدائی علامات میں آواز کا مسلسل بیٹھنا یا بھاری ہونا، گلے میں درد، نگلنے میں تکلیف، کان میں درد، مسلسل کھانسی، گلے میں کسی چیز کے پھنسے ہونے کا احساس اور بعض صورتوں میں سانس لینے میں دشواری شامل ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر آواز میں تبدیلی کو نظر انداز نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اگر بھاری پن یا آواز کی تبدیلی مسلسل برقرار رہے تو ای این ٹی  یا متعلقہ ماہر سے معائنہ کرانا چاہیے۔
 
کینسر کی وجوہات پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشد نے بتایا کہ تمباکو نوشی اور تمباکو کی دیگر مصنوعات کا استعمال لیرنکس کینسر کے اہم خطرات میں شامل ہے۔ شراب نوشی بھی خطرے کو بڑھا سکتی ہے، خصوصاً جب اس کے ساتھ تمباکو استعمال کیا جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ غیر تمباکو نوش افراد بھی اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے علامات کو صرف اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ مریض سگریٹ نہیں پیتا۔
 
تشخیص کے لیے ڈاکٹر نے بتایا کہ مریض کی علامات اور طبی معائنے کے بعد گلے اور وائس باکس کا خصوصی معائنہ کیا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر Laryngoscopy، Imaging Scans اور Biopsy کے ذریعے بیماری کی تصدیق اور اس کے مرحلے کا تعین کیا جاتا ہے۔
 
علاج کے بارے میں ڈاکٹر ارشد حسین نے کہا کہ کینسر کے مرحلے اور مقام کے مطابق سرجری، ریڈی ایشن تھراپی، کیموتھراپی یا ان علاجوں کا امتزاج استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر مریض کا علاج ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے پر ایسے علاج بھی ممکن ہیں جن سے آواز کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
 
انہوں نے اس غلط فہمی کو بھی دور کیا کہ وائس باکس کے کینسر کا مطلب لازماً آواز کا ختم ہو جانا ہے۔ اگر مکمل لیرنکس نکالنے کی ضرورت پیش آئے تو مریض کے لیے Speech Rehabilitation اور آواز پیدا کرنے کے دیگر طریقے موجود ہیں۔ اسی طرح علاج کے دوران کھانے پینے میں بھی بعض مریضوں کو عارضی مشکلات پیش آ سکتی ہیں، جنہیں طبی ٹیم کی مدد سے سنبھالا جا سکتا ہے۔
 
ڈاکٹر نے بتایا کہ علاج مکمل ہونے کے بعد بھی باقاعدہ فالو اَپ ضروری ہے، کیونکہ بعض کینسر دوبارہ بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے تمباکو اور شراب سے پرہیز، منہ اور گلے کی صحت کا خیال رکھنے اور مسلسل علامات کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینے پر زور دیا۔
 
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر ارشد حسین حکیم نے کہا کہ آواز کا مسلسل بیٹھنا معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص سے علاج کے امکانات بہتر ہوتے ہیں اور کئی مریض مؤثر علاج کے بعد معمول کی زندگی کی طرف واپس آ سکتے ہیں۔
 
 قارئین ڈاکٹر ارشد حسین حکیم، کنسلٹنٹ سرجیکل آنکولوجسٹ، اپولو ہاسپٹلس، جوبلی ہلز، حیدرآباد، کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اورہیلتھ سے جڑے کسی بھی موضوع پر، اہم ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔