Saturday, April 04, 2026 | 15 شوال 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • آبنائے ہرموز کو کھولنے کےحوالے سے بھارت سمیت 60 ممالک کی میٹنگ

آبنائے ہرموز کو کھولنے کےحوالے سے بھارت سمیت 60 ممالک کی میٹنگ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Apr 03, 2026 IST

آبنائے ہرموز کو کھولنے کےحوالے سے  بھارت سمیت 60 ممالک کی  میٹنگ
آبنائے ہرمز کے حوالے سے گزشتہ روز بھارت سمیت 60 ممالک نے ہنگامی اجلاس کیا۔ برطانیہ کی قیادت میں اس اجلاس میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے سفارتی اور معاشی راستوں پر بحث کی گئی۔ ایران نے جنگ کی وجہ سے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس آبنائے کو بند کر رکھا ہے۔ جس سے بھارت سمیت کئی ممالک میں توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور مہنگائی بڑھ گئی ہے۔
 
 میٹنگ میں کون سے مسائل پر بحث ہوئی؟
 
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، میٹنگ میں سفارتی اور معاشی آپشنز پر توجہ دی گئی تاکہ اس اہم توانائی کے راستے سے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جا سکے۔عالمی سطح پر امکان ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہرموز کو کھلوائے بغیر ہی ایران میں اپنا آپریشن ختم کر سکتے ہیں۔میٹنگ میں فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، متحدہ عرب امارات (UAE) سمیت 60 سے زیادہ ممالک نے شرکت کی۔ تاہم، امریکہ اس میٹنگ سے دور رہا۔
 
 بھارت نے کیا کہا؟
 
میٹنگ میں بھارت کی طرف سے خارجہ سیکرٹری وکرم میسری نے شرکت کی۔بھارت نے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ نقل و حرکت اور جہازرانی کی آزادی پر زور دیا اور توانائی کی سلامتی پر پڑنے والے منفی اثرات کو اجاگر کیا۔  
 
بھارت نے یہ بھی بتایا کہ خلیج میں جاری تنازع کے دوران تاجرتی جہازوں پر ہونے والے حملوں میں اپنے ملاحوں کو کھونے والا وہ واحد ملک ہے۔ بھارت نے سفارتکاری اور بات چیت کے ذریعے حل نکالنے پر زور دیا۔
 
 فوجی بجائے سفارتی حل پر زور:
 
برطانیہ کی خارجہ سیکرٹری 'یوویٹ کوپر 'کی صدارت میں ہونے والی اس میٹنگ میں فوجی مداخلت کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں آبنائے ہرموز سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنا لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے۔تاہم، یہ بھی بحث ہوئی کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے نہ بن سکا تو اگلا قدم کیا ہوگا۔
 
 ٹرمپ کا بیان
 
اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا:جن ممالک کو ہرموز کی وجہ سے ایندھن نہیں مل رہا، میرے پاس ان کے لیے دو مشورے ہیں۔ پہلا  ہم سے خریدیں، ہمارے پاس کوئی کمی نہیں۔ دوسرا  تھوڑی ہمت جمع کریں اور ہرموز تک جا کر خود چھین لیں۔ اب آپ کو اپنی لڑائی خود لڑنی ہوگی۔ امریکہ اب آپ کی مدد کے لیے وہاں موجود نہیں رہے گا، بالکل ویسے ہی جیسے آپ ہمارے لیے موجود نہیں تھے۔