آندھرا پردیش کے وزیرِ خزانہ پیہ پی کیشَو نے اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا ریاستی بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں جملہ اخراجات کا حجم 3 لاکھ 32 ہزار 205کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق ریونیو اخراجات کا تخمینہ 2 لاکھ 56 ہزار 142کروڑ روپے ہے۔ جب کہ کیپیٹل اخراجات 48 ہزار 697کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ریاست کا ریونیو خسارہ تقریباً 22 ہزار کروڑ روپے اور مالیاتی خسارہ 75 ہزار 868کروڑ روپے بتایا گیا ہے۔وزیرِ خزانہ نے رائل سیما گلوبل ہارٹیکلچر ہب، وشاکھاپٹنم، امراوتی اور ترُوپتیمیں سٹی اکنامک ریجنز، اور آندھرا پردیش ویلتھ فنڈ کو بجٹ کی اہم پہل قرار دیا۔محکموں کے لحاظ سے الاٹ منٹ دیکھیں تو اسکول ایجوکیشن سر فہرست ہے ۔اسکول ایجوکیشن کے لیے بجٹ میں 32 ہزار 308کروڑ روپے رکھے گیے ہیں۔
اےپی بجٹ میں اقلیتوں کا حصہ
بی سی ویلفیئر کے لیے 23 ہزار 650کروڑ اور پنچایت راج و رورل ڈیولپمنٹ کو 22,941 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ صحت، آبی وسائل، شہری ترقی، توانائی، زراعت اور سماجی بہبود پر بھی نمایاں توجہ دی گئی ہے۔
مالی سال 2026-27 کے لیے آندھرا پردیش حکومت نے خاص طور پر اقلیتی بہبود کے لیے 6,090 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ یہ مختص ریاست کے 3.32 لاکھ کروڑ کے جملہ بجٹ کا ایک اہم حصہ ہے جو وزیر خزانہ پیوولا کیشو نے 14 فروری 2026 کو پیش کیا ۔
اقلیتی بجٹ کی اہم جھلکیاں:
فنڈنگ میں اضافہ: مختص پچھلے مالی سال میں مختص کیے گئے ₹5,434 کروڑ سے مسلسل اضافے ہے، جس کا مقصد سماجی تحفظ کے جال کو بڑھانا ہے۔
مذہبی اور سماجی مدد: بجٹ میں اماموں، موذنین اور پادریوں کے لیے ماہانہ اعزازیہ کی فنڈنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ حج اور یروشلم کے دوروں سمیت حج کے لیے سبسڈی فراہم کرتا ہے۔
تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ: اہم فنڈز ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اوورسیز ایجوکیشن اسکیم اور وجئے واڑہ میں حج ہاؤس کی تکمیل کے لیے دیے گئے ہیں۔
ادارہ جاتی تعاون: اقلیتی نوجوانوں کے لیے خود روزگار کے قرضے اور تکنیکی تربیت فراہم کرنے کے لیے اے پی اسٹیٹ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو مضبوط بنانا۔
شہری ترقی: پردھان منتری جن وکاس کاریاکرم (PMJVK) کے ساتھ انضمام تاکہ اقلیتوں پر مرکوز بلاکس میں اسکولوں اور صحت کے مراکز جیسی بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جاسکے۔
2026 ۔ 27 بجٹ کی جھلکیاں:
- تلی کی وندنم – 9,668 کروڑ روپے
- خواتین اور بچوں کی بہبود – 4,581 کروڑ روپے
- اسکالرشپس – 3,836 کروڑ روپے
- سماگرا شکشا - 2,946 کروڑ روپے
- امراوتی – 6,000 کروڑ روپے
- اعلیٰ تعلیم – 2,566 کروڑ روپے
- ڈوکا سیتاما دوپہر کے کھانے کی اسکیم – 2,161 کروڑ روپے
- اسکلز ڈیولپمنٹ – 1,232 کروڑ روپے
- منا باڈی منا بھویشیت – 1,500 کروڑ روپے
- پی ایم اسکول فار رائزنگ انڈیا – 707 کروڑ روپے
- سرو پلی رادھا کرشنا ودیارتھی مترا – 654 کروڑ روپے
- نوجوان اور کھیل – 438 کروڑ روپے
- آبپاشی کے منصوبے – 9,906 کروڑ روپے
- راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا – 1,927 کروڑ روپے
- انا دتا سکھی بھوا – 6,600 کروڑ روپے
- ماہی گیر – 260 کروڑ روپے
- قیمت استحکام فنڈ – 500 کروڑ روپے
- اسکولی تعلیم – 32,308 کروڑ روپے
- طبی اور صحت کا محکمہ – 19,306 کروڑ روپے
- بی سی کارپوریشنز – 23,650 کروڑ روپے
- رائلسیما گلوبل ہارٹیکلچر ہب – 30,000 کروڑ
- آبی وسائل کا محکمہ – 18,223 کروڑ روپے
- پنچایتی راج – 22,941 کروڑ روپے
- میونسپل ایڈمنسٹریشن – 14,538 کروڑ روپے۔
اس سے قبل چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو کی قیادت میں ریاستی کابینہ کا اجلاس چیف منسٹر کے چیمبر میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں چندرابابو نائیڈو کی زیرصدارت کابینہ نے 27-2026 کے سالانہ بجٹ کو منظوری دی۔ اس موقع پر بجٹ کی کاپیاں وزیر اعلیٰ چندرابابو اور نائب وزیر اعلیٰ پون کو سونپی گئیں۔ اس دوران چیف منسٹر نے کہاکہ یہ بجٹ ریاست کے تمام شہریوں اور ان کی ترقی کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیار کیاگیاہے۔ اس دوران آندھراپردیش کونسل میں بھی بجٹ پیش کیاگیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ انیتا نے حکومت کی حصولیابیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر بات کی۔