مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے ساتھ ہی سیاسی بیان بازی تیز ہو گئی ہے۔ بھاجپا لیڈر شوبھندو ادھیکاری نے ہفتہ کو مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ کے عہدے کی حلف برداری لی۔ جسکے ساتھ ہی وہ ریاست کے پہلے بھاجپا وزیراعلیٰ بن گئے ہیں۔ کولکاتا کے بریگیڈ پیرڈ میدان میں منعقدہ شاندار تقریب میں ریاستی گورنر آر این روی نے انہیں عہدے اور رازداری کی حلف دلائی۔
ایک طرف بھاجپا نے اسے بنگال میں نئے سیاسی دور کی شروعات قرار دیا تو دوسری طرف ترنمول کانگریس نے انتخابات کے عمل کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ابھیشیک بنرجی نے الیکشن کمیشن اور ایجنسیوں پر اٹھائے سوالات:
ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد الیکشن کمیشن، سرکاری ایجنسیوں اور انتخابی عمل کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ابھیشیک بنرجی نے دعویٰ کیا کہ اس انتخابات میں تقریباً 30 لاکھ حقیقی ووٹرز کو مبینہ طور پر ووٹر لسٹ سے باہر کر دیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پورے انتخابات کے دوران کئی سرکاری ایجنسیوں اور الیکشن کمیشن کا رویہ جانبدارانہ نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ جن جمہوری اداروں کو غیرجانبدار طریقے سے کام کرنا چاہیے تھا، ان کی کردار نے انتخابات کی غیرجانبداری، اعتبار اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ای وی ایم اور گنتی کے عمل پر بھی اظہار تشویش:
ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ ووٹ گنتی کے عمل سے لے کر ای وی ایم کی ہینڈلنگ اور موومنٹ تک کئی ایسے واقعات سامنے آئے جن سے لوگوں کے ذہن میں شک پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کنٹرول یونٹس کے mismatching کے الزامات بھی لگائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گنتی مراکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج عام کی جائے اور 'وی وی پی اے ٹی' سلپس کی شفاف گنتی کرائی جائے تاکہ لوگوں کے سامنے حقیقت سامنے آ سکے اور تمام شکوک و شبہات کا حل ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت تبھی مضبوط رہ سکتی ہے جب انتخابی اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ لیکن اس انتخابات میں جو کچھ دیکھنے کو ملا، اس نے اس اعتماد کو گہرا جھٹکا پہنچایا ہے۔
انتخابات کے بعد تشدد اور حملوں کا الزام:
ترنمول کانگریس لیڈر نے انتخابات کے بعد تشدد کی واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی آفسز پر حملے کیے جا رہے ہیں، کارکنوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور کئی حامیوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں کسی بھی سیاسی کارکن کو اپنی حفاظت اور سیاسی نظریہ کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
ممتا بنرجی کی قیادت میں جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان:
ابھیشیک بنرجی نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی پارٹی آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا:ترنمول کانگریس دہلی اور مغربی بنگال دونوں جگہوں پر ایک مضبوط اور آواز بلند کرنے والی اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں ہم عوامی حقوق کی لڑائی بغیر کسی سمجھوتے کے لڑتے رہیں گے۔