مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی بحران کے درمیان ایئر انڈیا گروپ نے مسافروں کی سہولت اور سفری خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 11 مارچ 2026 کو مغربی ایشیا کے مختلف مقامات کیلئے مجموعی طور پر 58 طے شدہ اور غیر شیڈول پروازیں چلائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد خلیجی ممالک میں موجود مسافروں کی نقل و حرکت کو آسان بنانا اور سفر کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو کم کرنا ہے۔
ایئر لائنز کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث کئی مسافروں کو اپنے سفری منصوبوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایسے میں اضافی پروازیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو بروقت اور محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔ کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ ایئر انڈیا گروپ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
ایئر لائنز نے بتایا کہ جدہ اور مسقط کیلئے باقاعدہ فضائی خدمات جاری رہیں گی۔ دونوں ایئر لائنز مل کر جدہ کیلئے مجموعی طور پر آٹھ پروازیں چلائیں گی۔ اس کے علاوہ ایئر انڈیا ایکسپریس مسقط کیلئے 14 طے شدہ پروازیں چلائے گی۔ حکام کے مطابق ان پروازوں کے ذریعے بڑی تعداد میں مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کیلئے بھی متعدد اضافی خصوصی پروازیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں بھارتی شہری مقیم ہیں اور کاروباری و ذاتی وجوہات کی بنا پر ان کا سفر جاری رہتا ہے۔ اضافی پروازوں کے ذریعے ان مسافروں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایئر انڈیا کے مطابق 11 مارچ کو نیو دہلی اور ممبئی سے جدہ کیلئے ایک ایک راؤنڈ ٹرپ پرواز چلائی جائے گی۔ اسی طرح ایئر انڈیا ایکسپریس حیدرآباد اور کوزی کوڈ سے بھی جدہ کیلئے ایک ایک راؤنڈ ٹرپ پرواز آپریٹ کرے گی۔ ان پروازوں کے ذریعے خلیجی ممالک میں پھنسے ہوئے یا سفر کے منتظر مسافروں کو بڑی سہولت ملنے کی توقع ہے۔
ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ تمام پروازیں مکمل حفاظتی اقدامات اور مقررہ فضائی ضوابط کے مطابق چلائی جائیں گی۔ مسافروں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی پروازوں کی تازہ ترین معلومات حاصل کریں اور ہوائی اڈوں پر مقررہ وقت سے پہلے پہنچیں۔
ماہرین کے مطابق مغربی ایشیا کی صورتحال کے پیش نظر فضائی خدمات کو جاری رکھنا نہ صرف مسافروں کیلئے اہم ہے بلکہ اس سے بین الاقوامی رابطے اور اقتصادی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ایئر انڈیا گروپ کا یہ اقدام موجودہ حالات میں مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔