الہ آباد: اتر پردیش کے مراد آباد ضلع میں بارہویں جماعت کی طالبہ فاطمہ کو مبینہ 'مذہب تبدیلی ' اور برین واشنگ کے الزامات کے کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ سے بڑی راحت مل گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ملزمہ فاطمہ کی پیشگی ضمانت (Anticipatory Bail) منظور کر لی ہے۔
کیا تھا پورا معاملہ؟
یہ معاملہ مراد آباد کے بلاری علاقے کا ہے، جہاں ایک طالبہ کے بھائی نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق، متاثرہ لڑکی ایک ٹیوشن سینٹر میں پڑھتی تھی جہاں اس کی دوستی چند مسلم طلبہ سے ہوئی۔ الزام لگایا گیا کہ ان طلبہ نے اسے مبینہ طور پر اسلام کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی اور اسے اپنے مذہب کے خلاف ورغلایا۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ 20 دسمبر 2025 کو متاثرہ کو زبردستی برقعہ پہننے پر مجبور کیا گیا اور اس پر مسلسل مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ اس معاملے میں فاطمہ سمیت دیگر طلبہ کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔
عدالت میں وکلاء کی دلیلیں:
جسٹس اونیش سکسینہ کی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران ملزمہ فاطمہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ:فاطمہ کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اس کے خلاف کوئی آزادانہ یا ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔پورا کیس محض متاثرہ کے بیانات پر مبنی ہے اور ملزمہ نے اب تک کی جانچ میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے۔ملزمہ کے فرار ہونے یا پولیس کی تفتیش پر اثر انداز ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ اور ریمارکس:
الہ آباد ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ فی الحال دستیاب حقائق کی بنیاد پر ملزمہ کو پیشگی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں چند اہم نکات بیان کیے:جن میں فاطمہ کو گرفتاری سے راحت دیتے ہوئے اینٹی سپیٹری بیل دے دی گئی۔عدالت نے ہدایت دی کہ ملزمہ کو پولیس کی تفتیش میں مکمل تعاون کرنا ہوگا اور وہ ثبوتوں کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گی۔عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کا یہ حکم کیس کے حتمی فیصلے یا میرٹ پر اثر انداز نہیں ہوگا۔
تاہم اس فیصلے کے بعد جہاں ملزمہ کو بڑی راحت ملی ہے، وہیں پولیس اس معاملے کے دیگر پہلوؤں کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔