Saturday, April 04, 2026 | 15 شوال 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • عام آدمی پارٹی سے ناراض ایم پی راگھو چڈھا کا ایک اور بیان آیا سامنے

عام آدمی پارٹی سے ناراض ایم پی راگھو چڈھا کا ایک اور بیان آیا سامنے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 04, 2026 IST

عام آدمی پارٹی سے ناراض ایم پی راگھو چڈھا کا ایک اور بیان آیا سامنے
عام آدمی پارٹی (AAP) کے رہنما اور راجیہ سبھا ایم پی راگھو چڈھا نے پارٹی کے اندرونی تنازع پر کھل کر بات کی ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو شئر کرتے ہوئے کہا کہ میں بولنا نہیں چاہتا تھا، مگر چپ رہتا تو بار بار دہرایا گیا جھوٹ بھی سچ لگنے لگتا۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر کوآرڈینیٹڈ اٹیک کیا گیا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ کل سے میرے خلاف ایک اسکرپٹڈ مہم چلائی جا رہی ہے۔ ایک ہی زبان، ایک ہی باتیں اور ایک ہی الزامات۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ کوآرڈینیٹڈ اٹیک ہے۔  
 
پہلے میں نے سوچا کہ اس کا جواب نہیں دینا چاہیے، پھر لگا کہ کہیں جھوٹ کو سو بار بولا جائے تو کچھ لوگ اسے سچ مان نہ لیں۔ اس لیے میں نے سوچا کہ جواب دوں۔  
 
 راگھو چڈھا  نے کہا کہ مجھ پر عام آدمی پارٹی نے تین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کی وجہ سے راگھو چڈھا کو پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع نہیں دیں گے۔جسکے جواب میں راگھو چڈھا نے وضاحتی بیان شیئر کیا ہے۔
 

 راگھو چڈھا کا دفاع:

 
 
پہلا الزام (واک آؤٹ نہ کرنا): 
 
راگھو چڈھا نے کہا،میرے اوپر پہلا الزام یہ ہے کہ جب اپوزیشن پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کرتا ہے تو راگھو چڈھا وہاں بیٹھے رہتے ہیں، وہ واک آؤٹ نہیں کرتے۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ سفید جھوٹ ہے۔  
 
میں چیلنج کرتا ہوں کہ ایک بھی دن بتائیں جب اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا ہو اور میں نے ان کا ساتھ نہ دیا ہو۔ پارلیمنٹ میں تو ہر جگہ CCTV کیمرے لگے ہیں۔ آپ CCTV فوٹیج نکال کر دکھا دیجیے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
 
دوسرا الزام (چیف الیکشن کمشنر کا محابھیوجن):  
 
انہوں نے کہا،دوسرا الزام یہ ہے کہ راگھو چڈھا نے چیف الیکشن کمشنر کے امپیچمنٹ موشن (مہابھیوجن) پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ عام آدمی پارٹی کے کسی لیڈر نے مجھ سے نہ تو رسمی طور پر اور نہ ہی غیر رسمی طور پر اس موشن پر دستخط کرنے کو کہا۔
 
تیسرا الزام (ڈر جانا): 
 
راگھو چڈھا نے کہا،تیسرا الزام یہ ہے کہ راگھو چڈھا ڈر گئے ہیں اس لیے وہ بے کار کے مسائل اٹھاتے ہیں۔
  
میں بتا دوں کہ میں پارلیمنٹ میں شور مچانے، چیخنے، مائیک توڑنے یا گالی دینے کے لیے نہیں گیا۔ میں وہاں عوام کے مسائل اٹھانے گیا ہوں۔
  
میں نے جی ایس ٹی سے لے کر انکم ٹیکس، پنجاب کے پانی سے لے کر دہلی کی ہوا، سرکاری سکولوں کی حالت سے لے کر پبلک ہیلتھ کیئر، ریلوے کے مسافروں کی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی، تمام مسائل اٹھائے ہیں۔
 
انہوں نے آخر میں کہا: جو لوگ مجھ پر جھوٹے الزام لگا رہے ہیں، ہر جھوٹ کو بے نقاب کیا جائے گا اور ہر سوال کا جواب دیا جائے گا۔ کیونکہ میں زخمی ہوں، اس لیے غاتک ہوں۔