تھلاپتی وجے نے تمل ناڈو کا وزیراعلیٰ بنتے ہی بڑے اعلانات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ انہوں نے تمام گھروں کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے والے حکم پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس اور ڈرگز کے خلاف کاروائی سے متعلق احکامات پر بھی وجے نے دستخط کیے ہیں۔ ایک اور بڑا اعلان کرتے ہوئے وجے نے کہا کہ وہ 2021 سے 2026 تک ریاست کی مالی صورتحال پر ایک وائٹ پیپر جاری کریں گے۔
وجے نے کہا: میں غربت اور بھوک کو جانتا ہوں
وجے نے اپنے جذباتی خطاب کا آغاز تمل جملے ’این نینجل کڈیئیرکم‘ سے کیا، جس کا مطلب ہے ’جو میرے دل میں رہتا ہے‘۔ وجے نے کہا، "ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا بیٹا اب وزیراعلیٰ بن گیا ہے۔ میں غربت اور بھوک کو جانتا ہوں، کسی شاہی خاندان سے نہیں آتا۔ میں نے بہت سی مشکلات کا سامنا کیا ہے، بہت سے لوگوں نے مجھے توہین کا نشانہ بنایا ہے۔ میں آپ کا بیٹا، بھائی جیسا ہوں۔ آپ نے مجھے دل میں جگہ دی ہے، مجھے قبول کیا ہے۔
وجے نے کہا: ڈی ایم کے نے 10 لاکھ کروڑ کا قرض چھوڑا
وجے نے بتایا کہ پچھلی ڈراویڑ مننیتر کڑگم (ڈی ایم کے) حکومت نے ریاست پر 10 لاکھ کروڑ روپے کا قرض چھوڑا ہے۔ انہوں نے کہا، "ڈی ایم کے نے ریاست کے خزانے کو صاف کیا اور ہم 10 لاکھ کروڑ روپے کے قرض کے ساتھ اقتدار سنبھالا ہے۔ ہم عوام کے پیسے کا ایک پیسہ بھی نہیں لیں گے اور کسی کو بھی ریاست کو لوٹنے نہیں دیں گے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ پچھلی حکومت نے کتنا قرض چھوڑا اور کتنا بوجھ مجھ پر ڈالا ہے۔
بدعنوانی اور عوامی پیسے پر سخت رویہ:
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ عوام کے ایک پیسے کو بھی ہاتھ نہیں لگائیں گے اور حکومت میں بدعنوانی کو کسی بھی سطح پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ حکومت مکمل طور پر عوام کے لیے کام کرے گی۔ وجے نے سابق حکومت پر ریاست کو بھاری قرض میں ڈبونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو کے 10 لاکھ کروڑ روپے کے قرض پر وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا، جس سے پوری مالی صورتحال سامنے آ جائے گی۔
وجے کے جذباتی خطاب کی اہم باتیں:
نئی حکمرانی کا آغاز ہو رہا ہے، اب حقیقی، سیکولر اور سماجی انصاف کے ایک نئے دور کی شروعات ہو رہی ہے۔اگر آپ مجھے موقع اور حمایت دیں گے تو میں اپنے تمام وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہمیں کام کر کے دکھانے کے لیے کافی وقت دیں۔نشے کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔لوگوں کا ایک بھی پیسہ نہیں چھوا جائے گا۔وجے کے علاوہ اقتدار کا کوئی اور مرکز نہیں ہوگا، اقتدار کا واحد مرکز وجے ہی ہوں گے۔