آسام ایک بار پھر شدید سیلاب کی تباہ کاریوں سے دوچار ہے۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں، لاکھوں افراد متاثر ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ اس دوران حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے 12 کروڑ روپے جمع کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ریاست میں سرکاری تشہیر اور اشتہارات پر ہونے والے اخراجات بھی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔مختلف رپورٹس کے مطابق گزشتہ برسوں میں آسام میں تشہیر، اشتہارات اور سرکاری مہمات پر 400 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔ عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اتنی بڑی رقم تشہیر پر خرچ کی جا سکتی ہے تو پھر سیلاب سے بچاؤ کے مستقل منصوبوں پر مؤثر سرمایہ کاری کیوں نہیں کی گئی؟
برسوں پرانا مسئلہ، مستقل حل اب بھی دور
آسام میں سیلاب کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے مستقل پالیسی اور مؤثر منصوبہ بندی کے بجائے عارضی اقدامات پر انحصار کیا جاتا رہا، جس کے باعث ہر سال لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 1980 میں بھارت کے نیشنل فلڈ کمیشن نے آسام میں فلڈ پلین زوننگ ایکٹ (Flood Plain Zoning Act) نافذ کرنے کی سفارش کی تھی تاکہ دریاؤں کے اطراف تعمیرات اور زمین کے استعمال کو منظم کیا جا سکے۔ مگر آج تک مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
اربوں روپے خرچ، لیکن باندھ پھر بھی ٹوٹ گئے
سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2021 سے 2024 کے درمیان سیلاب سے بچاؤ اور باندھ کی مضبوطی پر 1,500 کروڑ سے 3,400 کروڑ روپے تک کے مختلف منصوبوں پر اخراجات دکھائے گئے۔ اس کے باوجود اسی عرصے کے دوران مانسون میں 70 سے زائد باندھ (Embankments) ٹوٹنے یا دھنسنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے منصوبوں کی افادیت پر سوالات کھڑے ہوئے۔
سیواساگر منصوبے پر بھی اعتراضات
سیواساگر میں تقریباً 4.89 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک باندھ کی تعمیر کا منصوبہ بھی تنازع کا شکار رہا۔ سول سوسائٹی کے بعض گروپوں نے وزیراعظم دفتر (PMO) کو شکایت بھیجی، جس میں الزام لگایا گیا کہ منصوبے کے لیے مٹی قانونی طریقے سے حاصل کرنے کے بجائے رات کے وقت دریا کے کنارے سے غیر قانونی طور پر کھدائی کی گئی، جس سے کٹاؤ اور سیلاب کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
غیر قانونی کان کنی پر بھی خدشات
مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ آسام اور ناگالینڈ کی سرحدی علاقوں میں مبینہ غیر قانونی پتھر اور کوئلے کی کان کنی نے کئی دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کیا، جس سے سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا۔ بعض گروپوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ممکنہ سیلاب سے متعلق پیشگی اطلاعات کے باوجود بروقت احتیاطی اقدامات اور عوامی انتباہ مؤثر انداز میں جاری نہیں کیے گئے۔
ریلیف کے ساتھ جوابدہی کا مطالبہ
سیلاب کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے امدادی فنڈز، تنخواہوں کے عطیات اور ریلیف مہمات کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ تاہم متاثرین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ فوری امداد اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مستقل حل، شفاف منصوبہ بندی، عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ ہر سال آنے والی تباہی سے لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔آسام میں جاری بحران نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا صرف امدادی اعلانات کافی ہیں، یا اب وقت آ گیا ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی، شفاف اور جوابدہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔