ڈھاکہ میں بی این پی کے تاریخی پرانے دفتر کے گراؤنڈ فلور پر ایک دکان جو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے چل رہی ہے اچانک جشن اور تجارت کے ایک ہلچل کے مرکز میں تبدیل ہو گئی ہے۔ 13 ویں پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد سے حامی اور عام شہری بڑی تعداد میں بی این پی کے جھنڈے، ٹی شرٹس، ٹوپیاں، پورٹریٹ، اسٹیکرزاور دیگر پارٹی یادگاری سامان خریدنے کیلئے جوق در جوق جمع ہو رہے ہیں۔ دکان کے مالک نے فروخت میں کئی گنا اضافے کی اطلاع دی ہے جو عام دنوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ بی این پی نے 13ویں قومی پارلیمان کے انتخابات میں زبردست اکثریت حاصل کی ہے۔ اس نے دو تہائی سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے آئندہ حکومت بنانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔حامیوں کو آج بھی وہ دن یاد ہیں جب بیگم خالدہ ضیاء بطور وزیر اعظم اپنے دور میں باقاعدگی سے اسی دفتر کا دورہ کرتی تھیں۔ وہ یادیں اب نئی امید کے ساتھ تازہ ہو رہی ہیں۔
ادھر دوسری جانب بی این پی، جس نے بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، نے ایک اہم بیان دیا۔ اس نے کہاکہ وہ ہندوستان سے معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ بی این پی کے ترجمان صلاح الدین احمد نے کہا کہ وزیر خارجہ حسینہ کی حوالگی کے حوالے سے پہلے ہی کوششیں کر رہے ہیں اور وہ بھی اس کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ ہندوستان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ شیخ حسینہ کو قانونی طور پر بنگلہ دیش لائے اور ٹرائل کیلئے ان کے ملک واپس بھیجے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ہندوستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتی ہے۔ دوسری جانب صلاح الدین نے انتخابات پر ہونے والی تنقید کو مسترد کردیا۔ عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ دینے کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ملک کے عوام نے عوامی لیگ کو اگست 2024 میں پھوٹنے والی تحریک سے مسترد کر دیاتھا۔