ملک کے کئی مقامات پر شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانہ پر تباہی بھی ہورہی ہے۔ جموں کے قریب اکھنور سیکٹر میں گشت کے دوران ایک بی ایس ایف جوان سیلاب میں ڈوب گیا۔ حکام نے بتایا کہ یہ جوان بین الاقوامی سرحد پر پراگوال علاقے میں آپریشنل تعیناتی پر ٹیم کا حصہ تھا اور سیلاب کے تیز دھارے میں بہہ گیا۔ انہوں نے کہاکہ بعد میں ریسکیو آپریشن کے دوران اس کی لاش نکال لی گئی۔ بارڈر سیکورٹی فورس نے ایک پوسٹ میں کہاکہ ہم بی ایس ایف کے بہادر کانسٹیبل راجب نونیا کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے جموں کے اکھنور علاقے میں آپریشنل تعیناتی کے دوران قوم کی خدمت میں اپنا فرض ادا کرتے ہوئے عظیم قربانی دی۔
جموں و کشمیر میں گزشتہ دو دنوں میں ریکارڈ بارش سے متعلق واقعات میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 41 ہو گئی ہے جن میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو ویشنو دیوی کے راستے پر مٹی کے تودے میں پھنس گئے تھے۔ گذشتہ بارش سے کچھ راحت کے بعد امدادی کاموں میں تیزی آئی۔ جہاں جموں خطہ میں بہنے والی ندیوں کے پانی کی سطح صبح 11 بجے سے کم ہوئی وہیں اننت ناگ اور سری نگر میں دریائے جہلم کے پانی کی سطح سیلاب کے انتباہ کے نشان سے تجاوز کر گئی۔ کئی رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہو گیا۔
کئی دنوں سے ہورہی بارش نے بڑے پیمانہ پر تباہی مچائی ہے جموں وکشمیر کے علاوہ ہماچل پردیش۔ اتراکھنڈ۔ آسام۔ راجستھان کے علاوہ دونوں تلگوریاستوں آندھراپردیش اور تلنگانہ میں بھی شدید بارش کے باعث ندی اور تالاب لبریز ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ذخائر آب کی سطح میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارش کی پیش قیاسی کی ہے جس سے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھادی ہے۔ کئی سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا جس سے راہگیروں کو مسائل کا سامنا ہوا جبکہ نشیبی علاقوں میں بھی پانی بھرگیا۔