الہ آباد ہائی کورٹ مولانا توقیر رضا خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ستمبر 2025 میں، اتر پردیش کے بریلی میں 'آئی لو محمد ' پوسٹر تنازع سے متعلق ایک احتجاج نکالا گیا۔جسکے بعد پولیس نے بد امنی کا الزام لگاتے ہوئے مظاہرین پر لاٹھی چارج کر دی۔جس میں کئی لوگ زخمی ہو گئے۔یہ واقعہ اس وقت تشدد میں تبدیل ہو گیا جب لوگ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس نے الزام لگایا کہ مولانا توقیر رضا کی وجہ سے کئی علاقوں میں توڑ پھوڑ ہوئی اور پولیس اور عوام کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے سخت اقدامات اٹھائے اور ملزمان کے خلاف کاروائی شروع کی۔
تاہم آج توقیر رضا کیس کی سماعت ہونی ہے۔ کورٹ نے آئندہ کاروائی کے لیے دوپہر 2 بجے کا وقت طے کیا ہے۔ مولانا توقیر رضا اور اس کیس میں نامزد دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت ہو رہی ہے۔
مولانا توقیر رضا فی الحال جیل میں بند ہیں:
تحقیقاتی ایجنسیوں اور پولیس نے مولانا توقیر رضا کو اس پورے واقعے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ بریلی میں ہونے والی بدامنی میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا اور انہیں اس واقعے کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جا رہا ہے۔ مولانا توقیر رضا اور کئی دیگر ملزمان اس کیس میں جیل میں بند ہیں۔ اسی وجہ سے مولانا توقیر رضا اور دیگر ملزمان کی طرف سے ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواستیں دائر کی گئیں۔ ان درخواستوں پر فی الحال کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ درخواست گزاروں نے کورٹ میں اپنا موقف پیش کر دیا ہے اور ان کے وکلاء نے ضمانت کی حمایت میں کئی قانونی دلائل پیش کیے ہیں۔
حکومت کے وکیل نے کیا دلائل دیے:
دوسری طرف، ریاستی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل کورٹ میں اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں۔ حکومتی فریق کا موقف ہے کہ یہ کیس قانون و ترتیب سے متعلق ایک سنگین معاملہ ہے، جس میں تشدد اور عوامی امن کی خلاف ورزی کے الزامات شامل ہیں۔ اس لیے کورٹ کو فیصلہ سنانے سے پہلے تمام حقائق پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ یہ فیصلہ کرے گا کہ مولانا توقیر رضا اور دیگر ملزمان کو ضمانت دی جائے یا نہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ آج کورٹ فیصلہ سنا سکتا ہے۔