بہار کے سیاسی ماحول میں اس وقت ایک ہی بحث گھوم رہی ہے کہ بہار کا آئندہ وزیر اعلیٰ کون بنے گا۔ جہاں چیف منسٹر کی دوڑ میں کئی نام ہیں وہیں سمراٹ چودھری ایک بار پھر اس دوڑ میں آگے ہیں۔ اس کا واضح اشارہ ان کی رہائش گاہ پر سیکورٹی میں اچانک اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا کو ایک مخصوص دائرے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔سمراٹ چودھری کی رہائش گاہ پر پیر کی صبح سے ہی شور تھا۔ ان کی ملاقات سب سے پہلے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی رہائش گاہ پر ہوئی، جہاں انہوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک بات چیت کی۔
سی ایم ہاؤس سے نکلنے کے بعد جے ڈی یو لیڈر للن سنگھ نیشنل ایگزیکٹیو صدر سنجے جھا کے گھر گئے۔ وہاں آدھے گھنٹے کی مشاورت کے بعد دونوں رہنما ایک ہی کار میں نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے بنگلے پہنچے جہاں انہوں نے طویل بات چیت کی۔ ذرائع نے بتایا کہ جے ڈی یو کے دونوں لیڈروں نے اپنے وزراء کی فہرست بی جے پی کو سونپ دی ہے۔ کابینہ کی میٹنگ کے بعد مرکزی مبصرین کی موجودگی میں آج سہ پہر بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں نئے چیف منسٹر کے نام کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ تاہم سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ نام پہلے ہی فائنل ہو چکا ہے اور صرف اعلان باقی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی بھی آج پٹنہ آمد متوقع ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کے کئی وزرائے اعلیٰ اس تاریخی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
خیال رہے کہ چیف منسٹر نتیش کمار آج اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں گے جس کے ساتھ ہی جہاں نتیش کمار کے 20 سالہ دور کا خاتمہ ہوگا وہیں بہار میں پہلی مرتبہ بی جے پی کا چیف منسٹر بننے کی راہ ہموار ہوگی۔ اس دوران بی جے پی ایم ایل اے میتھلی ٹھاکر نے کہاکہ نئے چیف منسٹر کو لیکر ہم بھی بے چین ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نتیش کمار کا دور بہار کیلئے سنہری دور رہا ہے۔ انہوں نے بہار کو ترقی یافتہ ریاست بنانے میں اہم رول ادا کیاہے۔