برین ٹیومراوراس کی سرجری سے متعلق عوام میں پائے جانے والے خوف کو دور کرنے کے لیے ماہرین نے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ منصف ٹی وی کے مقبول عام پروگرام ہیلتھ ہیلتھ اور ہم میں گفتگو کرتے ہوئے معروف نیورو سرجن ڈاکٹر نوین مہروترا نے کہا کہ جدید میڈیکل ٹیکنالوجی کی بدولت آج برین ٹیومر کی سرجری پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ اور مؤثر ہو چکی ہے۔
ڈاکٹرنوین مہروترا، ایم بی بی ایس، ایم ایس (جنرل سرجری)، ایم سی ایچ (نیورو سرجری)، کنسلٹنٹ نیورو سرجن اور اسپائن سرجن، کمز سنشائن ہسپتال۔ سکندرآبادنے بتایا کہ خاص طور پر نان کینسرس (بنین) ٹیومرز کے کیسز میں سرجری کی کامیابی کی شرح 90 سے 95 فیصد تک ہے، اور مریض سرجری کے بعد معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ایم آر آئی، نیویگیشن سسٹمز، آپریٹنگ مائیکرو اسکوپس اور انٹرا آپریٹو مانیٹرنگ جیسے آلات نے سرجری کو مزید محفوظ بنا دیا ہے۔
ڈاکٹرنوین مہروترا نوین مہروترا کی مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتےہیں۔
ڈاکٹر مہوترا نے "اویک کرینیوٹومی" جیسے جدید طریقہ علاج کا بھی ذکر کیا، جس میں مریض کو ہوش میں رکھ کر سرجری کی جاتی ہے تاکہ دماغ کے حساس حصوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ اس طریقہ کار سے زیادہ سے زیادہ ٹیومر نکالنا ممکن ہوتا ہے جبکہ مریض کی بولنے اور حرکت کرنے کی صلاحیت محفوظ رہتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ برین ٹیومر ہمیشہ جان لیوا نہیں ہوتا، اور اس کا بروقت علاج نہایت ضروری ہے۔ اگر مریض سرجری میں تاخیر کرتا ہے تو ٹیومر بڑھ کر دماغ کے دیگر حصوں کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔
علامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مسلسل سر درد، قے، نظر کی کمزوری، جسم میں کمزوری یا دورے پڑنا برین ٹیومر کی ممکنہ نشانیاں ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور ایم آر آئی جیسے ٹیسٹ کروانے چاہئیں۔
ریکوری کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عموماً مریض 4 سے 5 دن میں اسپتال سے ڈسچارج ہو جاتا ہے اور 2 سے 4 ہفتوں میں معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکتا ہے، جبکہ مکمل بحالی میں چند ماہ لگ سکتے ہیں۔ فزیوتھراپی، اسپیچ تھراپی اور کاؤنسلنگ بھی مریض کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
آخر میں ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا کہ برین ٹیومر کے نام سے خوفزدہ ہونے کے بجائے بروقت تشخیص اور علاج پر توجہ دیں، کیونکہ جدید دور میں اس بیماری کا مؤثر اور محفوظ علاج ممکن ہے۔