دہلی فسادات کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں پولیس اہلکار چند مسلم نوجوانوں کو سڑک پر لٹا کر بے دردی سے پیٹ رہے تھے،ذلیل کر رہے تھے اور انہیں زبردستی قومی ترانہ گانے پر مجبور کر رہے تھے۔ ان نوجوانوں میں 23 سالہ فیضان بھی شامل تھا، جس کی پولیس حراست سے رہا ہونے کے چند دن بعد ہی موت ہو گئی ۔
بتا دیں کہ یہ معاملہ، 24 فروری 2020 کا ہے،جب دہلی میں سی اے اے کے خلاف احتجاج عروج پر تھا،اسی احتجاج میں فیضان کی ماں بھی شامل تھیں،جسے ڈھونڈنے وہ گھر سے نکلا،لیکن اسی دوران تشدد پھوٹ پڑا،اور فیضان پولیس اہلکاروں کے تشدد کا شکار ہوگیا۔
واقعہ کی ویڈیو بھی منظر عام پر ہے جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ:فیضان سمیت دیگر نوجوانوں کی پولیس اہلکاروں نے بے دردی سے پیٹا ئی کی ،اور زبردستی قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا۔
فیضان کی والدہ کا الزام ہے کہ پولیس نے ان کے بیٹے کو بے دردی سے مارا، اسے غیر قانونی حراست میں رکھا اور انہیں غیر ضروری علاج مہیہ نہیں کرایا، جس کی وجہ سے رہائی کے ایک دن بعد 26 فروری کو فیضان کی موت ہو گئی۔
تاہم اب 6 سال بعد اس معاملہ میں سی بی آئی نے چارج شیٹ داخل کی ہے۔
جس میں دہلی پولیس کے دو اہلکارہیڈ کانسٹیبل رویندر کمار اور کانسٹیبل پون یادو کا نام لیا گیا ہے۔
ان پر جان بوجھ کر چوٹ پہنچانے اور غیر ارادی قتل کی دفعات لگائی گئی ہیں، تاہم قتل کی دفعات شامل نہیں کی گئی ہے۔
وہیں اس چارج شیٹ پر بھی سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ جب ویڈیو میں 5 سے زائد پولیس اہلکار نظر آ رہے ہیں، تو صرف دو کے خلاف کاروائی کیوں ہوئی؟
اسکے علاوہ جیوتی نگر پولس اسٹیشن کے ان پولیس افسران کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہوئی ۔جنہوں نے 24 گھنٹے سے زائد عرصے تک فیضان کو غیر قانونی حراست میں رکھا ۔