منصف ٹی وی کے مقبول پروگرام 'ہیلتھ اور ہم'میں آج کمر کے نچلے حصے کے درد (لو بیک پین) اور گردن کے درد (نیک پین) جیسے عام مگر تکلیف دہ مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر ماہر ڈاکٹر ای ایس رادھے شیام نے ناظرین کو ان بیماریوں کی وجوہات، علامات اور علاج سے آگاہ کیا۔
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
ڈاکٹر کے مطابق کمر اور گردن کا درد آج کے دور میں ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ ہماری بدلتی ہوئی طرزِ زندگی ہے۔ گھنٹوں کمپیوٹر یا موبائل کے سامنے بیٹھنا، غلط انداز میں بیٹھنا (پوسچر)، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، بھاری وزن اٹھانا اور ذہنی دباؤ ان دردوں کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں اور پٹھوں کی کمزوری بھی ایک اہم وجہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لو بیک پین عموماً کمر کے نچلے حصے میں محسوس ہوتا ہے، جو بعض اوقات ٹانگوں تک بھی پھیل سکتا ہے، جبکہ نیک پین گردن میں اکڑاؤ، درد اور سر درد کا سبب بنتا ہے۔ اگر ان مسائل کو نظر انداز کیا جائے تو یہ سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں، جیسے ڈسک کا مسئلہ یا اعصابی دباؤ۔
علاج کے حوالے سے ڈاکٹر نے بتایا کہ ابتدائی مراحل میں آرام، ہلکی ورزش، فزیوتھراپی اور درد کم کرنے والی ادویات مفید ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر روزانہ ورزش کرنے، سیدھا بیٹھنے، مناسب کرسی اور میز استعمال کرنے، اور موبائل فون کا کم استعمال کرنے کی تاکید کی۔ شدید صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ متوازن غذا، کیلشیم اور وٹامن ڈی کا استعمال، اور باقاعدہ چہل قدمی نہ صرف ان دردوں سے بچاتی ہے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتی ہے۔
آخر میں ڈاکٹر ای ایس رادھے شیام نے ناظرین کو مشورہ دیا کہ اگر کمر یا گردن کا درد مسلسل رہے یا بڑھ جائے تو خود علاج کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ لو بیک پین عموماً کمر کے نچلے حصے میں محسوس ہوتا ہے، جو بعض اوقات ٹانگوں تک بھی پھیل سکتا ہے، جبکہ نیک پین گردن میں اکڑاؤ، درد اور سر درد کا سبب بنتا ہے۔ اگر ان مسائل کو نظر انداز کیا جائے تو یہ سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں، جیسے ڈسک کا مسئلہ یا اعصابی دباؤ۔
علاج کے حوالے سے ڈاکٹر نے بتایا کہ ابتدائی مراحل میں آرام، ہلکی ورزش، فزیوتھراپی اور درد کم کرنے والی ادویات مفید ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر روزانہ ورزش کرنے، سیدھا بیٹھنے، مناسب کرسی اور میز استعمال کرنے، اور موبائل فون کا کم استعمال کرنے کی تاکید کی۔ شدید صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ متوازن غذا، کیلشیم اور وٹامن ڈی کا استعمال، اور باقاعدہ چہل قدمی نہ صرف ان دردوں سے بچاتی ہے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتی ہے۔
آخر میں ڈاکٹر ای ایس رادھے شیام نے ناظرین کو مشورہ دیا کہ اگر کمر یا گردن کا درد مسلسل رہے یا بڑھ جائے تو خود علاج کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔