مرکزی حکومت نے اپنی باوقار 'پردھان منتری اجولا یوجنا' (پی ایم یو آئی) کے مستفیدین کو فراہم کیے جانے والے سبسڈی والے پکوان گیس سلنڈروں کی تعداد پر ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے پیر کو انکشاف کیا کہ اب تک فراہم کیے جانے والے سبسڈی والے سلنڈروں کا کوٹہ 4 سال تک محدود کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی غریب خاندانوں کی اوسط کھپت کے مطابق کی گئی ہے۔
مئی 2016 میں شروع کی گئی اس اسکیم میں غریب خاندانوں کی خواتین کو مفت گیس کنکشن فراہم کیے گئے تھے۔ ابتدائی دنوں میں سالانہ 12 سلنڈروں پر سبسڈی فراہم کی جاتی تھی، لیکن گزشتہ سال اسے کم کر کے 9 کر دیا گیا، اب تازہ ترین تعداد کم کر کے صرف4 کر دی گئی ہے۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری پروین مل خانوجا ،نے بتایا کہ اجولا سے فائدہ اٹھانے والوں کی سالانہ اوسطاً چار سلنڈر کی کھپت ہے، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
آلودی سے پاک کھانا پکانے والے ایندھن کو فروغ دینے کے لیے، مرکز نے مئی 2022 میں 200 فی سلنڈر روپے کی سبسڈی متعارف کرائی۔۔ اکتوبر 2023 میں سبسڈی بڑھا کر 300روپے کر دی گئی۔ سبسڈی سلنڈر خریدنے کے بعد مستفیدین کے بینک کھاتوں میں براہ راست جمع کر دی جائے گی۔ یہ کمی کھانا پکانے کی گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں کی گئی ہے۔ پچھلے تین مہینوں میں قیمتیں دو بار بڑھی ہیں، ۔ دہلی میں 14.2 کلوگرام کے سلنڈر کے لیے 942روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ جبکہ ۔ 300 روپےسبسڈی ہٹا دی گئی ہے، اجوالا کے مستفیدین فی الحال642 روپے ادا کر رہے ہیں۔
خانوجہ نے کہا کہ یہ صورتحال بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کی وجہ سے بین الاقوامی ایل پی جی کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، اور حکومت کو ہر سلنڈر کی فراہمی کے لیے 1,600روپے سے زائد لاگت آرہی ہے۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سبسڈی کے بعد بھی حکومت ہر سلنڈر پر تقریباً 1000 روپے ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اس اضافے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو ہر ایل پی جی سلنڈر پر تقریباً 700 روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کمپنیوں کو نہ صرف ایل پی جی بلکہ پٹرول اور ڈیزل پر بھی نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ۔ پیٹرول پر 6 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 30 روپے فی لیٹر، اور مجموعی طور پر 600-700 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے، قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 سے اب تک حکومت نے 2000 ایل پی جی سبسڈی کی شکل میں 52,000 کروڑ خرچ کئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے ہندوستان میں سب سے کم قیمت پر پکوان گیس دستیاب ہے۔