سپریم کورٹ نے بدھ کے روز الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی 'خصوصی گہری نظرثانی' یعنی ایس آئی آر (SIR) مہم کی قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ، عوام میں پھیلی ہوئی سب سے بڑی تشویش یعنی شہریت کے معاملے پر ایک انتہائی اہم اور تاریخی وضاحت پیش کی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جویمالیا باگچی کی بنچ نے واضح الفاظ میں کہا کہ،ایس آئی آر (SIR) کے عمل کے تحت اگر کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ سے خارج (حذف) کر دیا جاتا ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس کی بھارت کی شہریت ختم ہو گئی ہے۔ ووٹر لسٹ سے نام ہٹانا کسی کی شہریت کا حتمی فیصلہ نہیں کرتا۔عدالت نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس شہریت کی جانچ کرنے کا اختیار ضرور ہے، لیکن وہ انتہائی محدود مقاصد کے لیے ہے۔
شہریت کے نازک مسئلے پر سپریم کورٹ کا اہم مؤقف:
کیا الیکشن کمیشن (ECI) کسی فرد کی شہریت کا حتمی فیصلہ کر سکتا ہے؟ اس بڑے اور حساس سوال پر سپریم کورٹ نے عوام کے خدشات کو دور کرتے ہوئے اہم نکات پیش کیے:عدالت نے کہا کہ،الیکشن کمیشن کسی شخص کی شہریت کے دستاویزات کی جانچ کر سکتا ہے، لیکن اس کا مقصد صرف اس شخص کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے یا اس سے باہر رکھنے تک ہی محدود ہے۔
عدالت نے صاف کیا کہ کمیشن کا کوئی بھی فیصلہ صرف انتخابی مقاصد (Voting Rights) کے لیے ہوگا، اس کا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ وہ شخص بھارت کا شہری رہے گا یا نہیں۔
مشکوک شہریت کا معاملہ 4 ہفتوں میں مرکز کو بھیجنا ہوگا:
کورٹ نے کہا کہ کمیشن کو شہریت کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے افراد کو 4 ہفتوں میں مرکز کے مجاز اتھارٹی کے پاس بھیجنا ہوگا۔کورٹ نے کہا، "کمیشن کا فیصلہ، انتخابی مقاصد تک محدود ہے۔ وہ شہریت کے سوال پر حتمی فیصلہ نہیں لے سکتا۔ یہ فیصلہ مجاز اتھارٹی کے پاس رہے گا۔مجاز اتھارٹی قانون کے مطابق اقدامات کرے گا اور نوٹس جاری کر کے سماعت کرے گا۔اس کے فیصلے پر شخص کا نام ووٹر لسٹ میں شامل یا ہٹایا جائے گا۔
ایس آئی آر (SIR) میں شہریت کا اصل تنازع کیا ہے؟
دراصل، SIR کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں میں ان ووٹروں کا بھی ذکر ہے، جن کے نام 2002-2003 کی ووٹر لسٹ میں نہیں تھے اور اس لسٹ میں موجود شخص سے ووٹر کو اپنا آبائی تعلق ثابت کرنا ضروری تھا۔ایسے میں ووٹروں کی شہریت کو لے کر سوالات اٹھنے لگے اور ان سے متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کو کہا گیا۔
بہار کے ووٹروں کو راحت:
کورٹ نے بہار میں شہریت کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے لوگوں کو 4 ہفتوں میں مجاز اتھارٹی کے پاس بھیجنے کو کہا ہے۔ اتھارٹی اسمبلی اور مقامی انتخابات سے پہلے عمل مکمل کرے گا۔ غیر حاضری کی بنیاد پر ہٹائے گئے شہری بھی اپیل کر سکتے ہیں۔یہ فیصلہ SIR عمل کو آئینی قرار دیتے ہوئے شہریت کے تنازعے کو واضح کرتا ہے۔