دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے یو اے پی اے (UAPA) کیس میں ملزم عمر خالد کی باقاعدہ اور عبوری ضمانت کی درخواستوں پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی آئندہ سماعت 27 اگست مقرر کی ہے۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت کے دوران عمر خالد کی ضمانت کی درخواست کے ساتھ شریک ملزم شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر بھی ایک ساتھ غور کیا جائے گا۔
عمر خالد نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ ٹرائل کورٹ اب تک تین مختلف مواقع پر عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔ اس سے قبل 4 جولائی 2024 کو ٹرائل کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام دونوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ اس اہم قانونی سوال پر غور کر رہی ہے کہ آیا مقدمے کے طویل عرصے تک زیر التوا رہنے کی بنیاد پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت درج مقدمات میں ضمانت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ اس معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں دیتی، صرف مقدمے میں تاخیر کو ضمانت کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی، جس نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔ واضح رہے کہ عمر خالد کو ستمبر 2020 میں شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے عدالتی حراست میں ہیں اور اس دوران متعدد مرتبہ ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کر چکے ہیں، تاہم اب تک انہیں ریلیف نہیں مل سکا۔ اب اس مقدمے میں تمام فریقوں کی نظریں 27 اگست کو ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں دہلی ہائی کورٹ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں پر مزید کارروائی کرے گی۔