Tuesday, August 18, 2026 | 03 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش پر پولیس ایکشن، سپریم کورٹ میں سامنے آیا دہلی پولیس کا مؤقف

پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش پر پولیس ایکشن، سپریم کورٹ میں سامنے آیا دہلی پولیس کا مؤقف

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 18, 2026 IST

پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش پر پولیس ایکشن، سپریم کورٹ میں سامنے آیا دہلی پولیس کا مؤقف
دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ 20 جولائی کو طلباء اور دیگر مظاہرین کی جانب سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش غیر قانونی تھی، کیونکہ اس مارچ کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ پولیس نے مظاہرین پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کیا ہے۔ پولیس نے عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں کہا کہ احتجاج کے دوران پہلے صورتحال پرامن تھی، لیکن کچھ مظاہرین کی جانب سے رکاوٹیں توڑ کر پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کے بعد حالات خراب ہوئے۔ پولیس کے مطابق اسی کے بعد بھیڑ کو روکنے کے لیے مرحلہ وار کاروائی کی گئی۔

جنترمنترپرتقریباً 30 ہزار افراد موجود تھے

دہلی پولیس کے مطابق 20 جولائی کو جنتر منتر کے علاقے میں تقریباً 30 ہزار افراد جمع ہوئے تھے۔ مظاہرین کا ہجوم تقریباً تین کلومیٹر کے علاقے تک پھیلا ہوا تھا۔ بھیڑ کو سنبھالنے کے لیے تقریباً 5 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج شروع میں پرامن رہا، لیکن بعد میں بعض مظاہرین نے مختلف مقامات پر لگائی گئی رکاوٹیں توڑ دیں اور پارلیمنٹ کی طرف جانے کی کوشش کی۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان  جھڑپیں ہوئیں۔

پولیس نے کہا کہ مارچ کی اجازت نہیں تھی

پولیس نے عدالت میں واضح کیا کہ مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اسی وجہ سے پولیس نے اس مارچ کی کوشش کو غیر قانونی قرار دیا۔ پولیس کے مطابق بھیڑ کو آگے بڑھنے سے روکنے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے جو کاروائی کی گئی، وہ حالات کے مطابق کی گئی تھی۔

ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال نہیں 

مظاہرین کی جانب سے پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال اچانک نہیں کیا گیا بلکہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مرحلہ وار کاروائی کی گئی۔ پولیس نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ اس کے خلاف پیش کیے گئے بعض ثبوت منتخب تصاویر، نامکمل ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر موجود مواد پر مبنی ہیں۔ پولیس کے مطابق ایسے مواد سے پورے واقعے کی مکمل تصویر سامنے نہیں آئی ۔

240 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی

دہلی پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران 240 سے زیادہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً 200 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے بھیڑ کو قابو میں رکھنے اور مزید تصادم روکنے کے لیے مقررہ اصولوں کے مطابق کاروائی کی۔

مظاہرین کے خلاف بھی مقدمات درج

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ احتجاج میں شامل کچھ افراد کے خلاف پہلے سے مختلف سنگین مقدمات درج ہیں۔ پولیس کے مطابق تقریباً 2,873 افراد کے خلاف قتل، قتل کی کوشش، ڈکیتی، عصمت دری اور پوکسو قانون سمیت مختلف جرائم کے مقدمات درج ہیں۔ پولیس کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم ان افراد کے پس منظر اور احتجاج میں ان کے مبینہ کردار کی جانچ کرے گی۔

نوکیلی لاٹھی کے الزام پر پولیس کی وضاحت

احتجاج کے دوران پولیس پر نوکیلی چیز لگی لاٹھی استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ اس پر دہلی پولیس نے کہا کہ ایک ویڈیو میں ایسی چیز نظر آتی ہے، لیکن اس کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی پولیس اہلکار کے ہاتھ میں نہیں تھی بلکہ ایک مظاہرین کے پاس موجود تھی۔ پولیس نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی چیز قومی پرچم لگانے کے لیے استعمال ہونے والی چھڑی تھی۔ پولیس کے مطابق بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے عام لاٹھیوں کا استعمال مقررہ اصولوں کے مطابق کیا گیا۔ پولیس کے مطابق کاروائی اس وقت شروع ہوئی جب مظاہرین نے کئی حفاظتی رکاوٹیں توڑ دیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدا میں احتجاج پرامن تھا، لیکن کچھ مظاہرین کے رکاوٹیں عبور کرکے پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کے بعد صورتحال خراب ہوئی۔

سادہ لباس میں پولیس اہلکار کیوں موجود تھے؟

دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران سادہ لباس میں اہلکاروں کی تعیناتی کی وجہ بھی بتائی۔ پولیس کے مطابق ان اہلکاروں کا کام بھیڑ کی نگرانی کرنا اور موقع کی صورتحال کے بارے میں فوری معلومات فراہم کرنا تھا۔ ان میں اسپیشل برانچ، اسپیشل سیل، کرائم برانچ اور مقامی پولیس کے اہلکار شامل تھے۔ پولیس نے کہا کہ بڑے عوامی اجتماعات کے دوران سادہ لباس میں اہلکاروں کی تعیناتی معمول کی سکیورٹی کا حصہ ہے۔پولیس نے کہا کہ ان اہلکاروں کا مقصد صرف نگرانی نہیں تھا بلکہ ایسے لوگوں کی مدد کرنا بھی تھا جنہیں احتجاج کے مقام پر شرپسند عناصر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا خدشہ تھا۔ 

چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کا استعمال

احتجاج کے دوران چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے آیا۔ دہلی پولیس نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال محدود نگرانی کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی اور صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے اسے ضروری سمجھا گیا۔

پولیس آزاد تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار

دہلی پولیس نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ اگر عدالت 20 جولائی کے احتجاج کے دوران پولیس کی کاروائی اور طاقت کے استعمال کی جانچ کے لیے کسی آزاد کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کرتی ہے تو پولیس اس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ اب سپریم کورٹ اس معاملے میں پولیس کے مؤقف، مظاہرین کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لے گی۔

احتجاج کے معاملے میں سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔

 تازہ رپورٹس کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں اس معاملے پر تفصیلی بحث کے لیے اپوزیشن کو چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت پولیس کاروائی سے متعلق سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔