Thursday, May 07, 2026 | 19 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • دہلی حکومت نے اسلامک ایتھکس آف وارفیئرکتاب پر کیوں لگائی پابندی؟

دہلی حکومت نے اسلامک ایتھکس آف وارفیئرکتاب پر کیوں لگائی پابندی؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 07, 2026 IST

  دہلی حکومت نے اسلامک ایتھکس آف وارفیئرکتاب پر کیوں لگائی پابندی؟
نئی دہلی: دہلی حکومت کے محکمہ داخلہ نے ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے 'اسلامک ایتھکس آف وارفیئر' (Islamic Ethics of Warfare) نامی کتاب کے مواد پر اعتراض ظاہر کیا ہے اور اسے فوری طور پر ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس کتاب کا مواد قومی سلامتی (National Security) کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
 
پابندی کی وجوہات اور حکومتی موقف:
 
دہلی حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل آرڈر میں کہا گیا ہے کہ:حکومت کے مطابق یہ کتاب لوگوں، بالخصوص ایک مخصوص طبقے کو مسلح بغاوت کے لیے اکساتی ہے اور انتہا پسندانہ نظریات کو فروغ دیتی ہے۔آرڈر کے مطابق انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹس اور کتاب کے مواد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ کتاب دوسرے مذاہب کے خلاف جنگ کی وکالت کرتی ہے اور مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان نفرت، دشمنی اور بداعتمادی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔
 
دہلی حکومت نے اس کتاب کو بھارتیہ نیا سنہتا (BNS) 2023 کی دفعہ 196, 197(1)(g) اور 197(1)(j) کی دفعات کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے۔
 
 کتاب کا پس منظر اور دوسرا رخ:
 
آن لائن پلیٹ فارم 'ایمیزون' پر دستیاب معلومات کے مطابق، یوسف الحاج احمد کی تحریر کردہ یہ کتاب دراصل 'انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک جیورس پروڈینس آن مسلم وومن' سیریز کا حصہ ہے۔ 
 
عمومی طور پر اسلامی جنگی ضابطہ اخلاق میں معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کے قتل کی ممانعت سکھائی جاتی ہے اور یہ کتاب اسی تعلیم کا حصہ بتائی جاتی ہے۔
 
یہ سیریز زندگی اور مذہب کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے جو ایک ماں اور استاد کے طور پر خاتون کے کردار کو واضح کرتے ہیں۔
 
تاہم، دہلی حکومت کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ کتاب کا موجودہ تناظر میں غلط استعمال اور اس کا اشتعال انگیز مواد فوری کاروائی کا متقاضی تھا، جس کے پیش نظر یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔