Wednesday, April 29, 2026 | 11 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • دہلی فسادات: مشرف قتل کیس میں لوکیش ، پنکج سمیت 12 ملزمان بری

دہلی فسادات: مشرف قتل کیس میں لوکیش ، پنکج سمیت 12 ملزمان بری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 28, 2026 IST

دہلی فسادات: مشرف قتل کیس میں لوکیش ، پنکج سمیت 12 ملزمان بری
 
سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کو ملک کے تاریخ کے سب سے خوفناک فرقہ وارانہ تصادمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ CAA-NRC کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران بھڑکی ہوئی تشدد کی آگ نے 50 سے زائد بے گناہوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مرنے والوں میں 40 سے زائد کا تعلق مسلمان کمیونٹی سے تھا۔ اسی فساد سے متعلق ایک اہم کیس میں اب عدالت کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔
 
دہلی کی ایک عدالت نے فسادات کے دوران ایک شخص کے اغوا اور قتل کے الزام میں گرفتار 12 افراد کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ الزامات کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، کیونکہ گواہوں کے بیانات میں سنگین تضادات تھے اور ثبوت بھی مضبوط نہیں تھے۔
 
ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ اس کیس کی سماعت کر رہے تھے۔ جن ملزمان پر مقدمہ چل رہا تھا، ان میں لوکیش سولنکی، پنکج شرما، سمیت چودھری عرف بادشاہ، انکیت چودھری عرف فوجی، پرنس عرف ڈی جے والا، رشبھ چودھری عرف تپس، جتن شرما عرف روہت، ویوک پنچال عرف نندو، ہمانشو ٹھاکر، ساحل عرف بابو، سندیپ عرف موگلی اور ٹنکو اروڑا شامل تھے۔
 
ان سب پر مشرف نامی شخص کے قتل کا الزام تھا۔ عدالت نے 21 اپریل کے اپنے حکم میں کہا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف کیس ثابت نہیں کر سکا، اس لیے سب  کو بری کیا جاتا ہے۔
 
کیا تھا معاملہ؟
 
سلام ٹی وی کی  رپورٹس کے مطابق:دہلی فسادات کے دوران 27 فروری 2020 کو بھاگیرتھی وہار علاقے میں ایک نالے سے مشرف کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق، 25 فروری کی رات 150 سے 200 افراد کی بھیڑ نے زبردستی مشرف کے گھر میں گھس کر انہیں باہر کھینچا، مارپیٹ کی اور بعد میں ان کی لاش نالے میں پھینک دی۔
 
اس کیس میں ملزمان پر قتل، فساد، غیر قانونی جمعہ، اغوا، ثبوت مٹانے اور دشمنی پھیلانے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ کا پورا کیس بنیادی طور پر مقتول کی بیوی اور بیٹی کے بیانات پر مبنی تھا، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے مشرف کے قتل ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ تاہم، ان کے بیانات میں واقعے کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے سنگین تضادات پائے گئے۔ عدالت کے مطابق، یہ تضادات اتنے اہم ہیں کہ ان کی گواہی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
 
سلام ٹی وی کی  رپورٹس کے مطابق:جج نے مقتول کی بیوی کے رویے پر بھی سوال اٹھایا اور اسے غیر فطری قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر اس نے اپنے شوہر یعنی مشرف کے قتل ہوتے دیکھا تھا، تو اس نے دو دن تک نہ تو پولیس کنٹرول روم کو اطلاع دی اور نہ ہی کسی رشتہ دار کو بتایا۔ اس طرح کے حالات کو عام نہیں سمجھا جا سکتا۔
 
عدالت نے یہ بھی کہا کہ جن کال ڈیٹیل ریکارڈز پر استغاثہ نے بھروسہ کیا، وہ صرف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ملزمان اپنے گھروں کے آس پاس موجود تھے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ جرم میں شامل تھے، اس لیے ان ریکارڈز کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔
 
اس کے علاوہ لوکیش سولنکی کے موبائل سے ملے پیغامات کے بارے میں عدالت نے کہا کہ اگرچہ ان میں نفرت پھیلانے کی بات سامنے آتی ہے، لیکن اس کیس میں اسے دوبارہ سزا نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اسی بنیاد پر اسے پہلے ہی ایک دوسرے کیس میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے تمام ملزمان کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔