Saturday, April 25, 2026 | 07 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • دہلی فسادات معاملہ :عشرت جہاں کی ضمانت منسوخ کرنے سے ہائی کورٹ کا انکار

دہلی فسادات معاملہ :عشرت جہاں کی ضمانت منسوخ کرنے سے ہائی کورٹ کا انکار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 25, 2026 IST

 دہلی فسادات معاملہ :عشرت جہاں کی ضمانت منسوخ کرنے سے ہائی کورٹ کا انکار
نئی دہلی: سال 2020 میں دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ شمال مشرقی دہلی میں بھڑکنے والی اس تشدد میں 53 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت مسلم کمیونٹی کی تھی۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں کئی مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں سے کئی اب بھی جیل میں ہیں۔ کئی ملزمان اب بھی بغیر ٹرائل کے قید ہیں۔ اسی مشہورِ زمانہ معاملے میں اب عدالت کا ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔
 
دہلی ہائی کورٹ نے شمال مشرقی دہلی فسادات کی ملزمہ اور کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں کی ضمانت منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ دہلی پولیس نے نچلی عدالت کی جانب سے دی گئی ضمانت کو منسوخ کروانے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لیکن عدالت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
 
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا کہ عشرت جہاں کو ضمانت ملے ہوئے چار سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ انہوں نے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ لہٰذا اب ان کی ضمانت منسوخ کرنے کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں بنتی۔
 
قابلِ ذکر ہے کہ عشرت جہاں کو مارچ 2020 میں شمال مشرقی دہلی فسادات کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر تعزیراتِ ہند (IPC)، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق قانون، آرمز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
 
گرفتاری کے تقریباً دو سال بعد، مارچ 2022 میں ایک خصوصی عدالت نے انہیں ضمانت دی تھی۔ اس وقت عدالت نے کہا تھا کہ "چکا جام" کا خیال عشرت جہاں کا نہیں تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا گیا تھا کہ وہ کسی ایسی تنظیم یا واٹس ایپ گروپ کا حصہ نہیں تھیں جو مبینہ سازش میں شامل تھا۔
 
دہلی پولیس نے اپنی درخواست میں یہ دلیل دی تھی کہ نچلی عدالت نے عشرت جہاں کے خلاف موجود کئی اہم ثبوتوں کو نظر انداز کر دیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ضمانت کا فیصلہ حقائق کے مطابق نہیں ہے، اس لیے اسے منسوخ کیا جانا چاہیے۔ تاہم، ہائی کورٹ نے ان دلائل کو قبول نہیں کیا اور واضح کیا کہ اتنے طویل عرصے تک ضمانت پر رہنے کے دوران اگر کسی شرط کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے، تو اب ضمانت منسوخ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔