Wednesday, March 11, 2026 | 21 رمضان 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • ڈینٹل نیگلیجنس: دانتوں کی چھوٹی لاپرواہی کیسے بڑی بیماری بن سکتی ہے؟

ڈینٹل نیگلیجنس: دانتوں کی چھوٹی لاپرواہی کیسے بڑی بیماری بن سکتی ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Mar 11, 2026 IST

ڈینٹل نیگلیجنس: دانتوں کی چھوٹی لاپرواہی کیسے بڑی بیماری بن سکتی ہے؟
 
دانت انسانی صحت کا ایک اہم حصہ ہیں، مگر اکثر لوگ ان کی دیکھ بھال کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ جب تک درد شدید نہ ہو جائے یا انفیکشن بڑھ نہ جائے، زیادہ تر افراد ڈینٹسٹ کے پاس جانے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی لاپرواہی بعد میں بڑی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے، جسے ماہرین ڈینٹل نیگلیجنس یعنی دانتوں کے معاملے میں غفلت قرار دیتے ہیں۔
 
ماہرِ ڈنٹسٹ  ڈاکٹر توسیف احمد فریاز نے منصف ٹی ٹی کے خاص پروگرام ہیلتھ اور ہم میں  دانتوں کے مسائل پر کھل کر بیان کیا۔ ڈاکٹر توسیف کے مطابق دانتوں کے اکثر مسائل ابتدا میں خاموش ہوتے ہیں اور زیادہ درد نہیں دیتے، اسی وجہ سے مریض انہیں نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ چھوٹے مسائل جیسے کیویٹی یا حساسیت بڑھ کر روٹ کینال یا دانت نکالنے تک کی نوبت بھی لا سکتے ہیں۔

چھوٹی علامات کو نظر انداز نہ کریں

ڈاکٹر کے مطابق دانتوں میں حساسیت، سیاہ یا سفید دھبے، مسوڑھوں سے خون آنا اور دانتوں کے درمیان کھانا پھنسنا وہ ابتدائی علامات ہیں جنہیں لوگ عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر ان علامات کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو بیکٹیریا دانت کے اندرونی حصوں تک پہنچ جاتے ہیں اور انفیکشن بڑھ جاتا ہے۔
اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہر چھ ماہ بعد ڈینٹل چیک اپ کروانا چاہیے تاکہ مسائل کو ابتدائی مرحلے میں ہی حل کیا جا سکے۔

خود علاج اور گھریلو ٹوٹکوں کے نقصانات

کئی لوگ دانتوں کے درد میں پین کلر کھا لیتے ہیں یا گھریلو ٹوٹکے آزمانے لگتے ہیں جیسے لونگ رکھنا، ہلدی لگانا یا دیگر دیسی نسخے۔ ڈاکٹر توسیف کے مطابق یہ طریقے صرف وقتی طور پر درد کو کم کرتے ہیں مگر اصل بیماری ختم نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں انفیکشن اندر ہی اندر بڑھتا رہتا ہے اور بعد میں علاج مزید پیچیدہ اور مہنگا ہو جاتا ہے۔اسی طرح بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے دوائیں لینا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ پین کلر کا زیادہ استعمال نہ صرف دانتوں بلکہ جسم کے دوسرے حصوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

بچوں کے دانتوں کو نظر انداز نہ کریں

بعض والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کے دودھ کے دانت ویسے بھی گرنے ہوتے ہیں، اس لیے اگر وہ خراب ہو جائیں تو زیادہ فکر کی ضرورت نہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ سوچ غلط ہے۔ دودھ کے دانت بچوں کی چبانے کی صلاحیت، بولنے کے انداز اور جبڑے کی درست نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اگر ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو مستقبل میں دانتوں کی سیدھ اور جبڑے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

رمضان میں دانتوں کی حفاظت کیسے کریں؟

رمضان کے دوران لوگ افطار کے بعد میٹھے مشروبات یا سافٹ ڈرنکس زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق ایسی چیزیں منہ میں تیزابیت پیدا کرتی ہیں جو دانتوں کے اینامل کو کمزور کر سکتی ہیں۔ اس لیے افطار کے فوراً بعد برش کرنے کے بجائے کم از کم 20 منٹ انتظار کرنا چاہیے۔

دانتوں کی صحت کے لیے ضروری احتیاطیں

ماہرین کے مطابق دانتوں کو صحت مند رکھنے کے لیے چند بنیادی اصول اپنانا ضروری ہیں:
دن میں کم از کم دو مرتبہ برش کریں
روزانہ ڈینٹل فلاس استعمال کریں
زبان کو صاف رکھیں
ہر چھ ماہ بعد ڈینٹسٹ سے معائنہ کروائیں
 
آخر میں ڈاکٹر توسیف کا کہنا ہے کہ ایک خوبصورت مسکراہٹ صرف ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ مجموعی صحت کی علامت بھی ہے۔ اگر ہم دانتوں کی بروقت دیکھ بھال کریں تو نہ صرف درد اور تکلیف سے بچ سکتے ہیں بلکہ مستقبل کی بڑی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ قارئین   ڈاکٹر توسیف سے مکمل بات چیت کی ویڈیو آپ یہاں بھی  دیکھ سکتےہیں۔