حیدرآباد کے انکورا اسپتال کے پیڈیاٹرک گیسٹرواینٹرولوجسٹ و ہیپاٹولوجسٹ ڈاکٹر پری جت رام ترپاٹھی نے کہا ہے کہ آج کے دور میں بچوں میں لیور سے متعلق بیماریاں تیزی سے عام ہوتی جا رہی ہیں، جن کی بڑی وجہ غیر صحت بخش طرزِ زندگی، جنک فوڈ، موٹاپا اور صفائی کا فقدان ہے۔ منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ہیلتھ اور ہم میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے والدین کو بچوں کی صحت کے حوالے سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔
لیور کی بیماریاں بچوں میں بھی ہوتی ہیں
ڈاکٹر پری جت رام ترپاٹھی کے مطابق پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ لیور کی بیماریاں صرف بڑوں میں ہوتی ہیں، لیکن اب بچوں میں بھی فیٹی لیور، ہیپاٹائٹس اور دیگر مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر 10 میں سے ایک یا دو بچے فیٹی لیور کا شکار ہو سکتے ہیں، جو مستقبل میں سنگین بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
لیورکی بیماریوں کےعلامات
انہوں نے کہا کہ بچوں میں اگر آنکھیں یا جلد پیلی دکھائی دے، پیشاب کا رنگ گہرا ہو، پیٹ غیر معمولی طور پر پھولا ہوا ہو، بچہ سست رہنے لگے یا اس کی بھوک کم ہوجائے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ خاص طور پر نومولود بچوں میں اگر 14 دن سے زیادہ یرقان برقرار رہے تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر نےکس چیز سے کیا خبردار؟
ماہر ڈاکٹر نے خبردار کیا کہ گرمیوں کے موسم میں آلودہ پانی اور غیر معیاری کھانے پینے کی اشیا کے استعمال سے ہیپاٹائٹس اے اور ای کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔ سڑک کنارے فروخت ہونے والی پانی پوری، جوس یا برف والی اشیا بچوں میں انفیکشن پیدا کر سکتی ہیں، جس سے لیور متاثر ہوتا ہے۔
ویکسین ہر بچے کو وقت پر لگائیں
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہیپاٹائٹس اے اور بی کی ویکسین ہر بچے کو بروقت لگوانی چاہیے۔ ان کے مطابق ہیپاٹائٹس بی مستقبل میں لیور سیروسس اور لیور کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ اس کی ویکسین سرکاری اسپتالوں میں مفت دستیاب ہے۔
بچوں کو متوازن غذا دی جائے
ڈاکٹر پری جت نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کو متوازن غذا دی جائے، جنک فوڈ اور زیادہ چکنائی والی اشیا سے دور رکھا جائے اور جسمانی سرگرمیوں کی عادت ڈالی جائے تاکہ موٹاپے اور فیٹی لیور سے بچا جا سکے۔
والدین فوری ڈاکٹر سے مشورہ کریں
انہوں نے کہا کہ اگر والدین کو بچوں میں لیور کی بیماری کی معمولی سی بھی علامت محسوس ہو تو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کریں، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج سے کئی سنگین پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
قارئین بچوں کے لیور کی بیماریوں پر ڈاکٹر کی مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتےہیں۔