امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کو نیویارک کی بین الاقوامی تجارتی عدالت (Court of International Trade) سے بڑا دھچکا لگا ہے۔ عدالت نے صدر کی جانب سے نافذ کردہ 10 فیصد عالمی درآمدی ڈیوٹی (Global Tariff) کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
عدالتی فیصلہ اور ججوں کی رائے:
تین ججوں پر مشتمل پینل نے 2-1 کی اکثریت سے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ:صدر ٹرمپ نے ان اختیارات کا غلط استعمال کیا جو کانگریس نے ٹیرف کے حوالے سے صدر کو دے رکھے ہیں۔عدالت نے ٹیرف کو "غیر قانونی" اور "غیر مجاز" قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کر دیا۔اختلاف رائے رکھنے والے تیسرے جج کا موقف تھا کہ قانون صدر کو ٹیرف کے تعین کے وسیع اختیارات دیتا ہے، تاہم اکثریت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔
کن کمپنیوں کو راحت ملی؟
یہ مقدمہ واشنگٹن کی ایک مصالحہ کمپنی 'برلیپ اینڈ بیرل'اور کھلونوں کی کمپنی 'بیسک فن' کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ:انتظامیہ ان درخواست گزاروں سے ڈیوٹی وصول کرنا فوری بند کرے۔ان کمپنیوں کی جانب سے پہلے ادا کی گئی رقم واپس کی جائے۔یہ فیصلہ فی الحال صرف ان دو درآمد کنندگان اور ریاست واشنگٹن پر لاگو ہوتا ہے۔
دیگر درآمد کنندگان کا کیا ہوگا؟
عدالت نے تمام درآمد کنندگان کے لیے عالمی سطح پر حکمِ امتناعی (Injunction) جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ:دیگر تمام کمپنیوں کو جولائی تک عارضی ٹیرف ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔ان ٹیرف کی مدت جولائی میں ختم ہونے کی توقع ہے۔24 ریاستوں کے ایک گروپ (جن کی قیادت زیادہ تر ڈیموکریٹس کر رہے تھے) کی جانب سے دائر درخواست کو عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اس کے پاس پورے ملک کے لیے ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
پس منظر: ٹریڈ ایکٹ 1974 کا استعمال
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابقہ ٹیرف منسوخ کیے جانے کے بعد، 1974 کے تجارتی ایکٹ کی دفعہ 122 کا سہارا لیتے ہوئے یہ 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا تھا۔ اس دفعہ کی قانونی حیثیت 24 جولائی کو ختم ہونے والی تھی۔
عدالت کے اس حالیہ فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کی سخت تجارتی پالیسیوں کو ایک بار پھر قانونی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتی ہے۔