Saturday, May 09, 2026 | 21 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • اینڈوسکوپک اسپائن سرجری محفوظ اور جدید طریقہ علاج

اینڈوسکوپک اسپائن سرجری محفوظ اور جدید طریقہ علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 09, 2026 IST

اینڈوسکوپک اسپائن سرجری محفوظ اور جدید طریقہ علاج
 آج کے دور میں کمر اور گردن کا درد ایک عام مسئلہ بنتا جارہا ہے، خاص طور پر طویل وقت تک بیٹھ کر کام کرنے والے افراد، سافٹ ویئر ملازمین اور غیر متحرک طرزِ زندگی اختیار کرنے والوں میں اسپائن سے متعلق بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں اسپائن سرجری کے نام سے ہی اکثر مریض خوفزدہ ہوجاتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید اینڈوسکوپک اسپائن سرجری نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اس سے مریض جلد معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔
 
حیدرآباد کے Olive Hospital کے کنسلٹنٹ نیورو سرجن ڈاکٹر شیخ عمران علی نے منصف ٹی وی کے  خصوصی پروگرام ہیلتھ اور ہم میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسپائن سرجری سے متعلق کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ بیشتر مریض یہ سمجھتے ہیں کہ سرجری کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے بستر تک محدود ہوجائیں گے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آج اسپائن سرجری پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہوچکی ہے۔
 
ڈاکٹر عمران علی کے مطابق پرانے زمانے میں اسپائن سرجری کے لیے بڑے چیروں اور ہڈیوں یا پٹھوں کو نقصان پہنچانے کی ضرورت پڑتی تھی، مگر اینڈوسکوپک اسپائن سرجری میں ایک چھوٹے سے کیمرے اور باریک آلات کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار میں نہ صرف چیرا بہت چھوٹا ہوتا ہے بلکہ مریض کو جلد آرام بھی ملتا ہے۔ اکثر کیسز میں مریض کو اسی دن چلنے پھرنے کے قابل بنا دیا جاتا ہے اور بعض اوقات اسپتال میں طویل قیام کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔
 
انہوں نے بتایا کہ ہر کمر درد کا علاج سرجری نہیں ہوتا۔ تقریباً 90 سے 95 فیصد مریض صرف دواؤں، فزیوتھراپی، ورزش اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ سرجری صرف انہی مریضوں کو تجویز کی جاتی ہے جن میں ڈسک مکمل طور پر باہر نکل آئے، اعصاب دب جائیں، ٹانگوں میں کمزوری پیدا ہوجائے یا شدید درد مستقل مسئلہ بن جائے۔
 
ماہر نیورو سرجن نے کہا کہ اینڈوسکوپک اسپائن سرجری کے ذریعے زیادہ تر مریضوں کا علاج بغیر راڈ یا پیچ لگائے ممکن ہے۔ اگر کسی مریض میں ہڈیوں کی شدید خرابی یا عدم استحکام ہو تو کم سے کم چیروں کے ذریعے پیچ اور راڈ بھی لگائے جاسکتے ہیں۔
 
انہوں نے ٹی بی اسپائن کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ٹی بی صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں بلکہ ریڑھ کی ہڈی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اگر بروقت تشخیص ہوجائے تو بیشتر مریض صرف دواؤں سے صحت یاب ہوسکتے ہیں، جبکہ تاخیر کی صورت میں سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
 
ڈاکٹر عمران علی نے عوام کو مشورہ دیا کہ مسلسل کمر درد، ہاتھ یا پیر میں کمزوری، چلنے میں دشواری، بخار یا وزن میں کمی جیسی علامات کو ہرگز نظرانداز نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند طرزِ زندگی، روزانہ ورزش، صحیح بیٹھنے کا انداز اور جسمانی سرگرمی اسپائن کی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 
 قارئین آپ ڈاکٹر عمران علی کی مکمل گفتگو یہاں دیکھ سکتےہیں۔