Wednesday, May 27, 2026 | 09 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • مسجدِ اقصیٰ سمیت غزہ میں آنسوؤں، سسکیوں اور دعاؤں کے ساتھ منائی گئی عید الاضحیٰ

مسجدِ اقصیٰ سمیت غزہ میں آنسوؤں، سسکیوں اور دعاؤں کے ساتھ منائی گئی عید الاضحیٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 27, 2026 IST

مسجدِ اقصیٰ  سمیت غزہ میں آنسوؤں، سسکیوں اور دعاؤں کے ساتھ منائی گئی عید الاضحیٰ
غزہ پر مسلسل جاری اسرائیلی حملوں اور ہولناک بمباری کے سائے میں اس بار عید الاضحیٰ انتہائی دردناک اور سوگوار ماحول میں منائی گئی۔ غزہ پٹی کا ایک بڑا حصہ مکمل طور پر ملبے  میں تبدیل ہو چکا ہے اور رہائشی عمارتوں، ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ مساجد کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ لیکن اس شدید تباہی کے باوجود، غزہ کے غیور عوام نے ٹوٹے ہوئے ملبے اور منہدم مساجد کے باہر عید کی نماز ادا کر کے دنیا کے سامنے اپنے بے مثال حوصلے اور ایمان کا مظاہرہ کیا ہے۔
 
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی متعدد تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلسطینی شہری تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان صفیں بنا کر عید کی نماز پڑھ رہے ہیں۔ چونکہ زیادہ تر مساجد شہید ہو چکی ہیں، اس لیے لوگوں نے سڑکوں اور کھلے میدانوں کا رخ کیا۔ بچوں، بزرگوں اور خواتین سمیت ہزاروں افراد نے نماز میں شرکت کی اور گریہ و زاری کرتے ہوئے بارگاہِ الٰہی میں امن، انصاف اور جنگ کے فوری خاتمے کی دعائیں مانگیں۔
 
مسجدِ اقصیٰ میں روح پرور اجتماع:
 
دوسری طرف، تاریخی مسجدِ اقصیٰ  میں بھی عید الاضحیٰ کی نمازِ باجماعت ادا کی گئی، جہاں ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مسلمان پہنچے۔ نماز کے بعد غزہ کے مظلوم بہن بھائیوں کے لیے خصوصی رقت آمیز دعائیں کی گئیں۔
 
اس دوران، عید سے ٹھیک ایک دن پہلے اسرائیل نے غزہ کے رہائشی علاقے الریمال پر ایک اور وحشیانہ ہوائی حملہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق، ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنائے جانے کے باعث ایک ہی خاندان کے تمام افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں محمد اودیہ، ان کی پتنی، ان کے دو بیٹے یاسر اور یحییٰ، اور بیٹی جمیلہ محمد اودیہ شامل ہیں۔ اس اندوہناک واقعے نے عید کی خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔
 
غزہ میں اسرائیلی ظلم و ستم:
 
غزہ میں اسرائیلی ظلم و ستم سےاب تک 70 ہزار سے زائد معصوم افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو کر عارضی خیموں اور پناہ گزین کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔غزہ میں کھانے پینے کی اشیاء، ضروری ادویات اور پینے کے صاف پانی کی شدید ترین قلت برقرار ہے۔
 
عید کے موقع پر بھی ہر طرف پھیلی تباہی، اپنوں کو کھونے کا غم اور سسکتی زندگیوں کا منظر تھا، لیکن ان تمام مصائب کے باوجود فلسطینیوں نے اپنی عبادت اور بقاء کی جدوجہد کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ملبے کے ڈھیر پر سجدہ ریز مسلمانوں کی تصاویر نے دنیا بھر کے لوگوں کو آبدیدہ کر دیا ہے۔