Tuesday, January 13, 2026 | 24, 1447 رجب
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • طلاق کیس معاملہ میں گوہاٹی ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ

طلاق کیس معاملہ میں گوہاٹی ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 13, 2026 IST

طلاق  کیس معاملہ میں گوہاٹی ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ
گوہاٹی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے کہ ایک سول کورٹ طلاق معاملہ میں  مسلم شادی کو ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ گوہاٹی ہائی کورٹ کی جسٹس میتالی ٹھاکوریا نے فیصلہ دیا کہ سول عدالت مسلمان شوہر کی طرف سے بیوی کو دی گئی طلاق کو درست قرار نہیں دے سکتا۔انہوں نے درخواست گزار کو شادی کے معاملات میں فیملی کورٹ سے رجوع کرنے کی بھی ہدایت کی۔
 
کیس کی تفصیلات:
 
در اصل، ایک مسلمان شخص نے اپنی بیوی کو تحریری طور پر طلاق دے دی، جس کے بعد اس نے شادی ختم ہونے کی تصدیق کے لیے سول کورٹ سے رجوع کیا۔ سول کورٹ نے طلاق کی تصدیق کر دی۔ تاہم، ایک اپیل کورٹ نے طلاق کو درست قرار دینے کے سول کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس کے بعد، شوہر نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں اپیل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی اپیل کی، لیکن گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپیل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
 
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اس معاملے میں شوہر نے طلاق کا حکم نامہ طلب کیا تھا، جسے دینے کا سول عدالت کے پاس کوئی دائرہ اختیار نہیں تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ فیملی کورٹس ہی خاندانی تنازعات، ازدواجی ٹوٹ پھوٹ، اور خصوصی شادی ایکٹ یا ہندو میرج ایکٹ 1984 کے سیکشن 8 کے تحت طلاق کے حکم نامے والے مقدمات کی سماعت کر سکتی ہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ فیملی کورٹ کی عدم موجودگی میں ضلعی عدالت ان مقدمات کی سماعت کر سکتی ہے۔ عدالت نے شوہر کی اپیل خارج کر دی۔
 
اس فیصلے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے تحت دیے گئے طلاق (جیسے تین طلاق یا دیگر طریقوں) کی قانونی تصدیق اور اس سے متعلق تنازعات کی سماعت کے لیے فیملی کورٹ ہی مناسب فورم ہے۔ یہ فیصلہ آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں اس نوعیت کے کیسز کے لیے ایک اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔