Monday, February 16, 2026 | 28, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • غزہ:منہدم عمارتوں کے ملبے میں اب بھی دبے ہیں ہزاروں فلسطینی شہداء ؛ سول ڈیفنس کا انکشاف

غزہ:منہدم عمارتوں کے ملبے میں اب بھی دبے ہیں ہزاروں فلسطینی شہداء ؛ سول ڈیفنس کا انکشاف

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Feb 14, 2026 IST

غزہ:منہدم عمارتوں کے ملبے میں   اب بھی دبے ہیں ہزاروں فلسطینی  شہداء  ؛ سول ڈیفنس کا انکشاف
اسرائیل نے سال 2023 سے 2025 تک غزہ میں شدید بمباری کے ذریعے فلسطینیوں کی نسل کشی کی۔ اس دوران غزہ میں موجود رہائشی اور سرکاری عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ اسرائیلی حملوں میں 70 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی۔ غزہ پٹی میں سول ڈیفنس نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے مکانات کے ملبے تلے اب بھی تقریباً 8,000 فلسطینیوں کی لاشیں موجود ہیں، جنہیں نکالا نہیں جا سکا ہے۔
 
امدادی کارروائیوں میں مشکلات:
 
غزہ کی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے اب بھی ہزاروں لاشیں دبی ہوئی ہیں، کیونکہ بچاؤ ٹیمیں ان علاقوں تک پہنچنے کے لیے اب بھی جدوجہد کر رہی ہیں۔
 
 سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے گزشتہ جمعرات (12 فروری) کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل کوششوں کے باوجود وسائل کی کمی اور انتہائی مشکل حالات کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک رسائی مشکل بنی ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں "انتہائی کٹھن حالات" میں کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا عمل سست ہے۔
 
ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ:
 
جنیوا اکیڈمی آف انٹرنیشنل ہیومینٹیرین لاء اینڈ ہیومن رائٹس نے ایک ہولناک خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ادارے کے مطابق:غزہ میں اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 200,000 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔نئے ڈیٹا کے مطابق، جب سے یہ قتل عام شروع ہوا ہے، غزہ کی مجموعی آبادی میں 10 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہو چکی ہے۔