ایلون مسک کی سوشل میڈیا کمپنی ایکس کے خلاف بھارت حکومت کے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی وزارت نے ایک نوٹس جاری کیا ہے۔ وزارت نے آئی ٹی ایکٹ اور آئی ٹی قوانین کے تحت پلیٹ فارم کی قانونی ذمہ داریوں میں سنگین کمیاں پائی ہیں۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ ایکس نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر جو احتیاطیں برتنی چاہییں تھیں، ان کا صحیح طریقے سے اطلاق نہیں کیا گیا، جس سے صارفین کی حفاظت پر سوالات اٹھے ہیں۔
گروک کے غلط استعمال پر حکومت کی تشویش
حکومت نے ایکس کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) ٹول گروک کے غلط استعمال کو لے کر سخت اعتراض جتایا ہے۔ وزارت کے مطابق، اس ٹول کا استعمال قابل اعتراض، فحش اور توہین آمیز مواد تیار کرنے اور پھیلانے میں ہو رہا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر ایسا مواد بنایا جا رہا ہے۔ اسے فرد کی عزت، پرائیویسی اور ڈیجیٹل سیکورٹی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
72 گھنٹوں میں رپورٹ دینے کا حکم :
وزارت نے ایکس کو گروک کے تکنیکی سسٹم اور گورننس فریم ورک کی فوری جائزہ لینے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تمام غیر قانونی مواد ہٹانے اور غلط کام کرنے والے صارفین پر کاروائی کے ہدایات دی گئی ہیں۔ وزارت نے 72 گھنٹوں کے اندر کاروائی کی رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ متنبہ کیا گیا ہے کہ قواعد کی تعمیل میں ناکامی کے نتیجے میں آئی ٹی ایکٹ کے تحت قانونی تحفظات ختم ہوسکتے ہیں۔
گروک نے تسلیم کی سیکورٹی میں کمی :
مسک کی کمپنی 'ایکس اے آئی' کے چیٹ بوٹ گروک نے مانا ہے کہ ایکس پر سیکورٹی اقدامات میں کمی کی وجہ سے قابل اعتراض مواد سامنے آیا ہے۔ گروک نے کہا کہ کچھ معاملات میں صارفین نے AI سے نابالغوں کی کم کپڑوں والی تصاویر مانگیں اور انہیں مل بھی گئیں، جو کہ غیر قانونی ہے اور اس کی اجازت نہیں ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ ایسے درخواستوں کو مکمل طور پر روکنے کے لیے فلٹر اور مانیٹرنگ سسٹم کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
حکومت کی وارننگ:
الیکٹرانکس اور آئی ٹی وزارت نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر قوانین کی پابندی نہ ہوئی تو سخت کاروائی ہوگی۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ سوشل میڈیا کو اپنے پلیٹ فارم پر ڈالے گئے مواد کی ذمہ داری لینی ہوگی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ فحش، پورنوگرافک اور بچوں سے متعلق غیر قانونی مواد پر کاروائی ضروری ہے۔ راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ پریانکا چترویدی نے بھی AI کے غلط استعمال پر فوری سرکاری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔