جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں اتوار کی صبح ہونے والی شدید بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ موسلا دھار بارش کے باعث کئی علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی ہیں، جو مسلسل سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق سب سے زیادہ نقصان تحصیل سورنکوٹ میں ہوا، جہاں مختلف دیہات شدید متاثر ہوئے۔ نونہ بندی گاؤں میں ایک مکان اچانک منہدم ہونے سے 28 سالہ نازیہ کوثر ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئیں، جبکہ ان کے شوہر محمد حافظ اور تین کم عمر بچے زخمی ہو گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے تمام زخمیوں کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
اسی دوران لوئر مرہ (Lower Murrah) کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک رہائشی مکان مکمل طور پر ملبے تلے آ گیا۔ اس حادثے میں مکان کے مالک محمد لطیف سمیت خاندان کے پانچ افراد لاپتہ ہیں۔ امدادی ٹیمیں بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹا کر متاثرین کی تلاش کر رہی ہیں، آخری اطلاعات تک کسی کو بحفاظت نہیں نکالا جا سکا تھا۔
ایک اور افسوسناک واقعے میں مرہوٹ کے علاقے کی کمسن بچی ارم سیلابی نالے میں بہہ گئی۔ بعد میں اس کی لاش ڈھنڈک لتھونگ پلDhundak) Lathoong bridge ) کے قریب سے برآمد کر لی گئی۔ ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
عمر عبداللہ کا دورہ مختصر، جموں روانگی
خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دہلی میں اپنا سرکاری پروگرام مختصر کرتے ہوئے فوری طور پر جموں واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ 'فارم ایکس' پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ اور جموں ڈویژن میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے باعث وہ خودجائزہ لینے کے لیے جموں روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
راجوری میں بھی سیلابی صورتحال
دوسری جانب مسلسل بارش نے ضلع راجوری میں بھی معمولات زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں۔ بیلہ کے نیو بس اسٹینڈ سمیت کئی نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، جبکہ پارکنگ میں کھڑی متعدد گاڑیاں سیلابی پانی میں بہہ گئیں اور شدید نقصان کا شکار ہوئی۔ انتظامیہ کے مطابق رات بھر ہونے والی بارش کے بعد دریا اور ندی نالے کافی حد تک بھر چکے ہیں۔ درہالی، کھنڈلی، سکتوہ اور جمولا سمیت تمام بڑی ندیوں میں پانی کی سطح خطرے کے نشان کے قریب یا اس سے اوپر ریکارڈ کی گئی ہے۔
دریائے درہالی نے بیلہ کالونی کے قریب حفاظتی بند توڑ دیا، جس کے باعث سیلابی پانی رہائشی علاقوں اور نیو بس اسٹینڈ تک پہنچ گیا۔ صورتحال کے پیش نظر سیکڑوں خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
شہریوں کو احتیاط کی ہدایت
ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، سیلابی ندی نالوں کے قریب جانے سے اجتناب کریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ دریا کنارے رہنے والے افراد کو خصوصی طور پر چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے کیونکہ پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید بارشوں کی پیش گوئی
بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے پیش گوئی کی ہے کہ 23 جولائی تک جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں درمیانی سے شدید بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، مقامی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں مزید احتیاطی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔