Sunday, February 08, 2026 | 20, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ہمنت بسوا سرما کا کانگریس ایم پی گورو گوگوئی کی اہلیہ پر سنگین الزام ،جوڑا پاکستان کنکشن

ہمنت بسوا سرما کا کانگریس ایم پی گورو گوگوئی کی اہلیہ پر سنگین الزام ،جوڑا پاکستان کنکشن

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Feb 08, 2026 IST

ہمنت بسوا سرما کا کانگریس ایم پی گورو گوگوئی کی اہلیہ  پر سنگین الزام ،جوڑا پاکستان کنکشن
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے اتوار 8 فروری کو کانگریس ایم پی گورو گوگوئی کی اہلیہ الزبتھ گوگوئی پر سنگین الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ الزبتھ گوگوئی نے پاکستان کے لیے بھارت کی جاسوسی کی اور یہاں کی حساس معلومات پاکستان کو بھیجی ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کے لیے ایک SIT رپورٹ کا حوالہ دیا۔ ایک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کی تحقیقات میں کانگریس ایم پی گورو گوگوئی کی برطانوی نژاد اہلیہ الزبتھ کولبرن گوگوئی کے خلاف سنگین الزامات لگے ہیں، جن میں پاکستان میں ان کی ملازمت اور مبینہ غیر ملکی فنڈ کی منتقلی شامل ہے، جس سے بھارت کے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (FCRA) کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
 
وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے کہا کہ الزبتھ گوگوئی اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران LEAD پاکستان (ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ایک غیر منافع بخش تنظیم) کا ایک اہم حصہ تھیں۔ ہمنت بسوا سرما نے بتایا کہ ایم پی گوگوئی کی اہلیہ الزبتھ نے مبینہ طور پر بین الاقوامی ماحولیاتی منصوبوں پر کام کیا جو بھارت اور پاکستان دونوں سے جڑے تھے، جس میں گلوبل کلائمیٹ اینڈ ڈویلپمنٹ نالج نیٹ ورک (CDKN) میں مشترکہ شراکت داری بھی شامل تھی۔
 
وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے کہا کہ پاکستان کی ایک فرم نے الزبتھ گوگوئی کو ملازمت پر رکھا اور پھر "بعد میں انہیں انڈیا ٹرانسفر کر دیا"، اور ان کی تنخواہ مبینہ طور پر ایک شیخ کی طرف سے دی گئی۔ ہیمنتا نے بتایا کہ SIT کی فائنڈنگز کے مطابق، بیرون ملک سے یہ ادائیگیاں FCRA کی ممکنہ خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں SIT کا کہنا ہے کہ FCRA کی حدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، غیر ملکی فنڈز کے لیے ایک ذریعے کے طور پر نئی دہلی میں "LEAD India" نامی ایک یونٹ بنایا گیا تھا۔
 
SIT کی فائنڈنگز میں مبینہ طور پر پایا گیا کہ انہوں نے اپنے پاکستانی دورِ ملازمت کے دوران شیخ کو آسام حکومت کی ایک اندرونی خفیہ رپورٹ (جس میں حساس مواد تھا) سونپی تھی۔ اگر یہ سچ ہے تو سرکاری دستاویزات کی یہ منتقلی انڈیا کے آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔