اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے آپریشن ٹرو پرامس 4 (وعدہ صادق 4) کی 57ویں لہر کا آغاز کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اتحادیوں کے اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق، اس مرحلے میں قطر میں واقع العدید ایئر بیس ((Al Udeid Air Base پر بھی حملہ کیا گیا، جو امریکہ کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا مرکزی آپریشنل مرکز ہے۔
ایرانی بیان کے مطابق حملے میں ذوالفقار اور قیام جیسی درمیانی رینج کی میزائلیں، ساتھ ہی دھماکہ خیز ڈرونز استعمال کیے گئے۔ IRGC کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ بہت زیادہ درست تھا اور بیس کی آپریشنل صلاحیت کو شدید متاثر کر دیا گیا ہے۔
حملوں کا جذباتی پس منظر:
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹرز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن "مجتبی" نامی تین روزہ بچے کی یاد میں شروع کیا گیا، جس کی حالیہ جھڑپوں میں موت ہو گئی تھی۔ ایران نے اسے بدلے کی کاروائی قرار دیا ہے۔
دیگر اہداف
متحدہ عرب امارات میں ال ظفرہ ایئر بیس (Al Dhafra Air Base)کو نشانہ بنایا گیا، کیونکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ حملے اسی جگہ سے شروع ہوئے تھے۔ کروز میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے گئے، جس سے بیس کی صلاحیت کافی کم ہو گئی۔
بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس (Sheikh Isa Air Base)پر بھی حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
قبضہ شدہ علاقوں(ایران اسرائیل کو اسی طرح پکارتا ہے) میں کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس اور میزائل دفاعی نظاموں کو ناکارہ بنانے کے لیے خيبر شکن، عماد اور قدر جیسی جدید میزائلیں استعمال کی گئیں۔
IRGC کی دھمکی اور موقف:
IRGC نے خبردار کیا ہے کہ یہ فوجی دباؤ تب تک جاری رہے گا جب تک خطے میں موجود تمام امریکی ٹھکانے مکمل طور پر خالی نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے علاقے کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوجی اڈوں سے دور رہیں۔ ایران ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت جائز خود دفاع قرار دے رہا ہے اور دعویٰ کر رہا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر سینکڑوں میزائلیں اور ہزاروں ڈرونز داغے جا چکے ہیں۔