پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ اور اسکائی اسپورٹس کے درمیان ایک انٹرویوں کو لے کر تنازع پیدا ہوگیا۔ رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے سابق پاکستانی وزیراعظم اور کرکٹر عمران خان کے بیٹوں کے اسکائی اسپورٹس کو دیے گئے انٹرویوں پر اعتراض کیا تھا۔ پی سی بی نے مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر انٹرویوں نشر کیا گیا تو پاکستانی ٹیم میچ اور پوری ٹیسٹ سیریز کا بائیکاٹ کر سکتی ہے۔ بعد میں اسکائی اسپورٹس نے پاکستان میں اس انٹرویوں کی نشریات روک دیں اور پاکستانی ٹیم لنچ کے بعد دوبارہ میدان میں آ گئی۔
سرفراز احمد نے کہا کہ انہیں معاملے کا علم نہیں
ٹیسٹ کے دوسرے دن کے کھیل کے بعد پاکستان کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد سے جب اس تنازع کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔ سرفراز احمد نے کہا کہ وہ صرف میچ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور انہیں انٹرویوں کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انٹرویوں نشر ہونے کے بعد پاکستانی ٹیم نے میدان میں واپس نہ آنے پر غور کیا تھا تو سرفراز احمد نے جواب دیا کہ سب کچھ ٹھیک تھا اور اس وقت ٹیم لنچ کر رہی تھی۔
عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویوں
اس تنازع کی وجہ اسکائی اسپورٹس پر عمران خان کے بیٹوں کا ایک انٹرویوں تھا، جس کی میزبانی انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے کی۔ انٹرویوں میں عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کی صحت اور ان کی جیل میں موجودگی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ عمران خان کئی سال سے پاکستان میں قید ہیں اور ان کے بیٹوں نے ان کی حالت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انٹرویوں کی تشہیر لارڈز ٹیسٹ کے دوران بھی کی جا رہی تھی، بعد میں پاکستان میں اس کی نشریات روک دی گئیں۔
محسن نقوی نے اسکائی اسپورٹس سے شکایت کی
رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے معاملے میں مداخلت کی اور اسکائی اسپورٹس کے سامنے باضابطہ طور پر اعتراض اٹھایا۔ پی سی بی نے اس معاملے کو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے سامنے بھی اٹھانے پر غور کیا تھا،بعد میں اس کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ پاکستان میں انٹرویوں کی نشریات روک دی گئی تھیں۔
عمران خان کا کرکٹ سے تعلق
عمران خان دنیا کے معروف کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 1992 کا ون ڈے ورلڈ کپ جیتا تھا، جو ملک کی پہلی اور اب تک واحد ون ڈے ورلڈ کپ کامیابی ہے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان سیاست میں آئے اور 2018 میں پاکستان کے وزیراعظم بنے۔ وہ 2022 تک اس عہدے پر رہے۔ بعد میں انہیں گرفتار کیا گیا اور مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں، عمران خان ان کے خلاف الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔