• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • جولائی میں درآمدات میں بڑا اضافہ، عام آدمی پر کیا ہوگا اثر؟

جولائی میں درآمدات میں بڑا اضافہ، عام آدمی پر کیا ہوگا اثر؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 14, 2026 IST

جولائی میں درآمدات میں بڑا اضافہ، عام آدمی پر کیا ہوگا اثر؟
ہندوستان کا تجارتی خسارہ (Trade Deficit) جولائی کے مہینے میں توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ کر 31.98 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو کہ پچھلے چھ ماہ میں سب سے زیادہ ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات نے خسارے کا تخمینہ 30.20 بلین ڈالر لگایا تھا، جبکہ جون میں یہ عدد 30.43 بلین ڈالر تھا۔ وزارتِ تجارت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، درآمدات میں یہ اضافہ بنیادی طور پر خام تیل کی اونچی قیمتوں، الیکٹرانکس مصنوعات کی مانگ، اور مشرقِ وسطیٰ (مغربی ایشیا) کی کشیدگی کے باعث سمندری مال برداری (شپنگ) کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔  
 
درآمدات کیوں بڑھیں؟
 
جولائی کے دوران ہندوستان کی کل درآمدات بڑھ کر 76.22 بلین ڈالر ہو گئیں۔ 
الیکٹرانکس و چپس: الیکٹرانکس کی درآمدات میں 44 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا جو $14.37 بلین تک پہنچ گئیں۔  
سونا: سونے کی خرید میں 5 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ $4.16 بلین رہی۔  
خام تیل: تیل کی درآمدی مالیت جولائی میں $18.31 بلین رہی، لیکن عالمی سطح پر قیمتوں کے دباؤ نے مجموعی بل کو بڑھائے رکھا۔  
 
برآمدات میں نیا تاریخی ریکارڈ
 
دوسری جانب، ملک کی تجارتی اشیاء کی برآمدات 44.24 بلین ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئیں، جو اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔
کامرس سکریٹری راجیش اگروال کے مطابق اس مالی سال میں پٹرولیم مصنوعات، الیکٹرانکس اور انجینئرنگ سامان کی برآمدات نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ امریکہ ہندوستانی مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی بن کر ابھرا ہے، جہاں اپریل سے جولائی کے درمیان 33.49 بلین ڈالر کی اشیاء برآمد کی گئیں۔
 
خدمات اور عام آدمی پر اثرات
 
ہندوستان نے جولائی میں خدمات (Services) کی برآمد سے 16.95 بلین ڈالر کا سرپلس حاصل کیا، جس نے سامان کے تجارتی خسارے کے اثرات کو کچھ حد تک سنبھالا دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارے کے بڑھنے سے روپے کی قدر پر دباؤ آ سکتا ہے اور ایندھن و الیکٹرانکس کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کی جیب پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، اگر یہ خسارہ پیداواری خام مال اور ٹیکنالوجی کی خریداری کی وجہ سے ہے، تو یہ مستقبل کی معاشی اور صنعتی ترقی کے لیے مثبت اشارہ ہے۔