ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے اپنے تاریخی 600 ویں ٹیسٹ میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سری لنکا کو گالے ٹیسٹ میں 165 رنز سے شکست دے دی۔ اس فتح کے ساتھ ہی بھارت نے دو میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے کھاتے میں 12 اہم پوائنٹس کا اضافہ کر لیا ہے۔ یہ میچ گالے کرکٹ اسٹیڈیم کا بھی 50 واں ٹیسٹ میچ تھا، جس نے اس کامیابی کی اہمیت کو دوچند کر دیا۔
میچ کی سب سے نمایاں پیش رفت نوجوان بائیں ہاتھ کے اسپنر (Manav Suthar) کی تباہ کن بولنگ رہی، جنہوں نے دوسری اننگز میں 55 رنز دے کر 6 وکٹیں (6/55) حاصل کر کے سری لنکن بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔
600 ٹیسٹ کا سفر: 100 سے زائد ٹیسٹ کھیلنے والے حریف اور ہندوستان کے ریکارڈز
تقریباً ایک صدی پر محیط اپنے ٹیسٹ سفر کے دوران بھارت نے دنیا بھر کی ٹیموں کے خلاف لازوال کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم کچھ عالمی طاقتیں ایسی بھی رہیں جن کے خلاف بھارتی ٹیم کو نسبتاً زیادہ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستان نے اب تک صرف تین ٹیموں کے خلاف 100 یا اس سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں:
انگلینڈ (53 شکستیں): ہندوستان نے انگلینڈ کے خلاف سب سے زیادہ 141 ٹیسٹ کھیلے ہیں، جن میں سے 53 مقابلوں میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کی۔ 1932 میں اپنے پہلے ٹیسٹ میچ سے شروع ہونے والی یہ حریفانہ تاریخ اب بھی ٹیسٹ کرکٹ کا ایک بڑا مقابلہ سمجھی جاتی ہے۔
آسٹریلیا (48 شکستیں): آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے 112 ٹیسٹ میچوں میں بھارت کو 48 بار شکست ہوئی۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بالخصوص 'بارڈر-گاوسکر ٹرافی' کے دوران بھارت نے آسٹریلوی سرزمین پر دو مسلسل سیریز جیت کر اس مقابلے کو برابری کی جنگ بنا دیا ہے۔
ویسٹ انڈیز (30 شکستیں): ویسٹ انڈیز کے خلاف 102 ٹیسٹ میچوں میں ہندوستانی ٹیم کو 30 مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ویسٹ انڈیز کے خوفناک فاسٹ بولنگ کے سنہری دور میں بھارتی ٹیم کو کڑے امتحانات سے گزرنا پڑا تھا۔
600 ویں ٹیسٹ میچ میں گالے کی فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستانی ٹیم جو کبھی بیرون ملک مشکلات کا شکار ہوتی تھی، آج دنیا کی سب سے مضبوط اور متوازن ٹیسٹ ٹیموں میں شمار ہوتی ہے۔