Saturday, February 28, 2026 | 10 رمضان 1447
  • News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز: 2016 کا زخم ابھی تازہ، کل ایڈن گارڈنز میں بدلے کا حساب

بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز: 2016 کا زخم ابھی تازہ، کل ایڈن گارڈنز میں بدلے کا حساب

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Feb 28, 2026 IST

بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز: 2016 کا زخم ابھی تازہ، کل ایڈن گارڈنز میں بدلے کا حساب
کل یعنی یکم مارچ کو ایڈن گارڈنز، کولکتہ میں آئی سی سی  مینز T20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے کا میچ 12 کھیلا جائے گا، بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز۔ ٹاس شام 7 بجے سے شروع ہوگا۔ یہ محض ایک میچ نہیں، بلکہ ایک جذباتی داستان ہے جو دس سال پرانے زخموں کو تازہ کر رہی ہے۔
 
یاد ہے 2016 کا T20 ورلڈ کپ سیمی فائنل؟ ویراٹ کوہلی نے 47 گیندوں پر ناقابل شکست 89 رنز کی شاندار اننگ کھیلی تھی، اسٹرائیک ریٹ تقریباً 189۔ بھارت نے 20 اوورز میں 192/2 کا مضبوط ہدف دیا تھا۔ کرس گیل جلدی آؤٹ ہو چکے تھے، ابتدائی برتری بھارت کے پاس تھی۔ مگر قسمت نے مذاق کر دیا Lendl Simmons کی اننگ، متعدد نو بالز، فری ہٹس اور اینڈری رسل کی دھماکہ خیز بیٹنگ نے میچ پلٹ دیا۔
 
ویسٹ انڈیز نے 196/3 بنا کر 7 وکٹوں سے جیت لیا۔ وہی ٹورنامنٹ جسے ویسٹ انڈیز نے فائنل میں کارلوس بریتھویٹ کے چار چھکوں سے جیتا تھا"Remember the name" کا نعرہ لگا کر دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ مگر اس رات ویراٹ کا نام خاموش رہ گیا۔ کروڑوں بھارتی دل ٹوٹ گئے تھے۔ آج وقت بدل چکا ہے۔ ویراٹ اب ٹیم میں نہیں ہیں، سوریا کمار یادو کیپٹن ہیں۔ نئی نسل کا جنون ہےسوریا کا بے خوف انداز، ہاردک پانڈیا کا آل راؤنڈ دھماکہ، اور نوجوان کھلاڑیوں کی آنکھوں میں بدلے کی چمک۔ بھارت سپر 8 میں اب تک ایک جیت کے ساتھ ہے۔
 
آج کا میچ جیتنے والا سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا، ہارنے والا شاید باہر۔ اگر بارش ہوئی تو ویسٹ انڈیز کا بہتر نیٹ رن ریٹ انہیں آگے لے جا سکتا ہے، مگر موسم کی پیش گوئی صاف ہے۔ ویسٹ انڈیز اب بھی وہ ٹیم ہے جو 200 کو چھوٹا سمجھتی ہے، 250 کو چیلنج کہتی ہے۔ ان کے پاس طوفانی بیٹنگ لائن اپ ہے جو کسی بھی باؤلر کو دبا سکتی ہے۔ بھارت کے پاس جسبریت بمراہ، ارشدیپ سنگھ جیسے باؤلرز ہیں جو ڈیتھ اوورز میں کمال کر سکتے ہیں۔
 
یہ میچ صرف اسکور بورڈ کا مقابلہ نہیں۔ یہ یادوں کا بوجھ ہے، دس سال پرانے آنسوؤں کا حساب ہے۔ کیا قسمت اس بار نیلا جھنڈا تھامے گی؟ کیا ویراٹ کے 89 رنز اب مسکرا سکیں گے؟ یا تاریخ پھر دہرائے گی؟دل کی دھڑکنیں تیز ہوں گی، آنکھیں نم ہوں گی کیونکہ کچھ میچ روح سے کھیلے جاتے ہیں۔ کل رات ایڈن گارڈنز گواہ بنے گا ایک نئی تاریخ کا، یا پرانی کہانی کا تسلسل۔