امریکی ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپیہ ایک بار پھر تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ آج کی ٹریڈنگ میں روپیہ 92.63 کی اب تک کی کم ترین سطح کو چھو گیا۔ بین الاقوامی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اور ملکی منڈیوں سے غیر ملکی رقوم کے مسلسل اخراج نے روپے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔
انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں آج صبح 92.42 پر کھلنے والا روپیہ مزید کمزور ہوگیا۔ معلوم ہوا ہے کہ منگل کو روپیہ 92.37 پر بند ہوا تھا۔ ایچ ڈی ایف سی سیکیورٹیز کے سینئر ریسرچ تجزیہ کار دلیپ پرمار نے وضاحت کی کہ 92.50 کی اہم سطح سے نیچے گرنے کے بعد فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، اور اس کے علاوہ، بینک کی تعطیلات کی وجہ سے ڈالر کی کم دستیابی بھی روپے کی گراوٹ کا سبب بنی۔ انہوں نے کہا کہ درآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کی بہت زیادہ مانگ ہے۔
دوسری جانب ایل کے پی سیکیورٹیز کے وی پی ریسرچ تجزیہ کار جتن ترویدی نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درآمدی بلوں کی وجہ سے روپیہ کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کی وجہ سے خام تیل کی بلند قیمتوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے نقل و حمل میں رکاوٹ جیسے عوامل ہندوستان کے لیے درآمدات کی لاگت کو بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میکرو اکنامک حالات روپے کے لیے منفی ہیں۔ ترویدی نے اندازہ لگایا کہ آنے والے دنوں میں روپیہ ڈالر کے مقابلے 92.25 سے 92.95 کی حد میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔