مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب صرف میزائلوں اور فوجیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس بار تنازعہ کا نیا محاذ بجلی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک پہنچ گیا ہے۔ ایران نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا تو وہ پورے خطے میں ان تنصیبات کو نشانہ بنائے گا جو امریکی فوجی اڈوں کو توانائی فراہم کرتی ہیں۔
یہ انتباہ امریکی صدر کی طرف سے تہران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم جاری کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت ڈھیلی نہ کی تو امریکی فوج اس کے پاور انفراسٹرکچر پر کارروائی کر سکتی ہے، اور یہ ڈیڈ لائن منگل کی نصف شب سے قبل ختم ہو رہی ہے، جس سے پورے خطے میں غیر یقینی اور خوف کی فضا پھیل گئی ہے۔
ایران کی سخت وارننگ
اگر ہمارے پاور پلانٹس پر حملہ کیا گیا تو ہم نہ صرف قابض حکومت کے انفراسٹرکچر بلکہ ان خطے کے ممالک کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنائیں گے جو امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ اقتصادی، صنعتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی کارروائی کی جائے گی۔ ہم کسی بھی غلطی کی اجازت نہیں دیں گے۔
تہران کا موقف محض فوجی انتباہ نہیں بلکہ خلیج کے ممالک کی زندگی کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔ بہت سے صحرائی ممالک میں پاور پلانٹس ڈی سیلینیشن پلانٹس سے جڑے ہیں، جو سمندری پانی کو پینے کے قابل پانی میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس لیے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ پانی کے بحران کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
ایران نے مزید کہا آپ نے ہمارے ہسپتالوں، اسکولوں اور امدادی مراکز پر حملہ کیا، ہم نے نہیں کیا۔ لیکن اگر آپ ہمارے پاور انفراسٹرکچر پر حملہ کریں گے تو ہم اسی سطح پر جواب دیں گے۔ ہم کسی بھی خطرے کا اس سطح پر جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں جو ڈیٹرنس کے توازن میں خلل ڈالے۔
اس تنازعہ کے اثرات صرف علاقائی سلامتی تک محدود نہیں ہیں۔ توانائی کی سپلائی میں خلل نے پہلے ہی عالمی قدرتی گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، اور اگر اہم پاور انفراسٹرکچر پر حملے شروع ہو گئے تو عالمی منڈیوں اور عام شہریوں کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ اب ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو توانائی اور انسانی بحران کی آگ میں دھکیل سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کی جائے گی یا خطے میں نئی جنگ کے خطرات بڑھیں گے۔