ایران کی جیل میں قید مشہور انسانی حقوق کی علمبردار اور نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کی طبیعت مسلسل بگڑ رہی ہے۔ بدھ (6 مئی) کو طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ان کا معائنہ کیا، جس کے بعد ان کی زندگی کو لاحق خطرات کے بارے میں خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
بے ہوشی کے بعد ہسپتال منتقلی:
رپورٹس کے مطابق، گزشتہ جمعہ کو نرگس محمدی جیل میں اچانک بے ہوش ہو گئی تھیں، جس کے بعد انہیں شمال مغربی ایرانی شہر زنجان کے ایک مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کے بھائی حامد رضا محمدی، جو اوسلو میں مقیم ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی بہن کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔
علاج میں رکاوٹ کے الزامات:
نرگس محمدی کے خاندان اور حامیوں نے ایرانی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر علاج میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے:طبی ماہرین نے انہیں بہتر علاج کے لیے تہران کے کسی بڑے ہسپتال میں منتقل کرنے کی سفارش کی ہے، لیکن سیکورٹی حکام نے اب تک اس کی اجازت نہیں دی ہے۔
ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ سسٹم میں انٹیلی جنس ایجنسی کا غلبہ ہے اور وہی سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں۔ اگر انہیں منتقل نہیں کیا گیا، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ انہیں مار ڈالنا چاہتے ہیں۔
صحت کی سنگین صورتحال:
53 سالہ نرگس محمدی پہلے ہی کئی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں:رواں سال مارچ میں انہیں جیل کے اندر دل کا دورہ پڑا تھا۔ان کے پھیپھڑوں میں خون کا تھکا (Blood Clot) جمنے کی شکایت ہے، جس کے لیے انہیں مستقل طبی نگرانی اور خون پتلا کرنے والی ادویات کی ضرورت ہے۔خاندان کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے دوران ان پر ہونے والے تشدد نے ان کی صحت کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
نرگس محمدی کو 2023 میں اس وقت نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا جب وہ جیل میں تھیں۔ وہ طویل عرصے سے ایران میں خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔ ان کی حالیہ قید کا سلسلہ دسمبر 2025 میں مشہد شہر سے گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل ایران پر زور دے رہی ہیں کہ نرگس محمدی کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا کم از کم انہیں معیاری طبی سہولیات تک رسائی دی جائے۔