ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی امن تجاویز کو دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ اس سفارتی تعطل کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس نے عام صارفین کی مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
ایران نے کیا کہا؟
بھارت میں مقیم ایرانی سفارت خانے نے پیر (11 مئی) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک اہم بیان جاری کیا۔ اس بیان میں کہا گیا کہ امریکی تجویز کو تسلیم کرنے کا مطلب ٹرمپ کے من مانی مطالبات کے سامنے جھکنا ہے۔
سفارت خانے نے واضح کیا کہ امریکہ کی تجویز کو مسترد کرنا ایرانی قوم کے بنیادی حقوق کی ترجمانی کرتا ہے۔ایران نے اپنی جوابی تجویز میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کو جنگ کا ہرجانہ ادا کرنا چاہیے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنا چاہیے۔تہران نے پابندیوں کے خاتمے اور منجمد کیے گئے قومی اثاثوں اور جائیدادوں کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ کا سخت ردعمل:
دوسری جانب، اتوار (10 مئی) کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا ایپ 'ٹروتھ سوشل'پر ایک پوسٹ میں ایرانی موقف کو 'مکمل طور پر ناقابلِ قبول' قرار دیا۔
ٹرمپ نے لکھا:میں نے ابھی ایران کے نام نہاد 'نمائندوں' کا جواب پڑھا ہے۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا،یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے!
پاکستان کی بطور ثالث سفارتی کوششیں:
سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ارنا' (IRNA) کے مطابق، ایران نے اتوار کے روز اسلام آباد کے ذریعے علاقائی کشیدگی کم کرنے کی امریکی تجویز پر اپنا ردعمل بھیجا تھا۔ پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے اس ایرانی مسودے کا بنیادی مقصد خطے میں جاری جنگ کو ختم کرنا تھا۔
ایرانی مسودے کے اہم نکات:
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران نے واشنگٹن سے چند مخصوص مطالبات کیے ہیں،جن میں :ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کی جائے۔امریکہ خطے سے اپنی افواج واپس بلائے۔لبنان میں اسرائیل کی جنگ سمیت تمام معاندانہ کاروائیاں فوری روکی جائیں۔
عالمی اثرات:
دونوں ممالک کے درمیان اس کھینچا تانی نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر یہ سفارتی تعطل برقرار رہا تو سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔