Thursday, May 07, 2026 | 19 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایرانی صدر کا فرانسیسی صدر سے رابطہ، امریکی رویے“پیٹھ میں چھرا گھونپنے”کے مترادف

ایرانی صدر کا فرانسیسی صدر سے رابطہ، امریکی رویے“پیٹھ میں چھرا گھونپنے”کے مترادف

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 07, 2026 IST

ایرانی صدر کا فرانسیسی صدر سے رابطہ، امریکی رویے“پیٹھ میں چھرا گھونپنے”کے مترادف
 ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ٹیلیفونک گفتگو  کی ۔ مسعود پزشکیان نے  امریکی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ انھوں  الزام لگایا کہ  واشنگٹن کا رویہ “پیٹھ میں چھرا گھونپنے” کے مترادف ہے۔

دو مرتبہ مذاکرات کی کوشش 

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے دو مرتبہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا، تاہم ہر بار بات چیت کے ساتھ ہی ایران کے خلاف فوجی جارحیت بھی سامنے آئی، جس سے اعتماد کی فضا متاثر ہوئی۔

مذاکرات کےلئے پہلی شرط جنگ کا خاتمہ 

 ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بامقصد اور مؤثر مذاکرات کے لیے سب سے پہلی شرط جنگ کا خاتمہ اور اس بات کی واضح ضمانت ہے کہ مستقبل میں ایران کے خلاف دوبارہ کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔

 امریکہ ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری 

آبنائے ہرمز سے متعلق گفتگو میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اس اہم گزرگاہ کو کھولنے سے متعلق کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے امریکہ کی جانب سے عائد ناکہ بندی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

 یو اے  ای پر فوجی کاروائی  کی خبریں مسترد 

ایرانی صدر نے متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی فوجی کاروائی کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی مسلح افواج کوئی عسکری اقدام کرتی ہیں تو اس کا باقاعدہ اور واضح اعلان کیا جاتا ہے۔

جنگ بندی کے فریم ورک کی حمایت 

دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جنگ بندی کے فریم ورک کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور تہران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے سلسلے میں تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

جنوبی کوریا کے جہاز پر حملہ کرنے کی ایران نے کی  تردید 

ایران نے جمعرات کو آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے ایک مال بردار جہاز پر حملہ کرنے کی تردید کی، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ "بہت ممکن" ہے لیکن خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو واشنگٹن دوبارہ بمباری شروع کر دے گا۔
 
سیول میں تہران کے سفارت خانے نے کہا کہ وہ ان الزامات کو "مضبوطی سے مسترد اور واضح طور پر مسترد کرتا ہے" کہ اس کی مسلح افواج پاناما کے جھنڈے والے ایچ ایم ایم نامو پر سوار ایک دھماکے کے پیچھے تھیں، جس میں پیر کو 24 عملے کے ارکان کے ساتھ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی منتقلی کے دوران آگ لگ گئی۔
 
ٹرمپ نے بعد میں دعویٰ کیا کہ ایران نے بحری جہاز پر "کچھ شاٹس" لیے ہیں اور جنوبی کوریا پر زور دیا کہ وہ آبنائے کے ذریعے جہاز رانی کی بحالی کے لیے امریکی زیرقیادت کوششوں میں شامل ہو۔فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی جنگ میں ایران نے پورے مشرق وسطیٰ میں حملوں کا جواب دیتے ہوئے آبنائے ہرمز پر دبائو ڈالا، جس سے توانائی کی عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی۔