امریکہ-اسرائیل کی طرف سے کیے گئے حملوں کے بعد ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خمینی کی صحت کے بارے میں دنیا بھر میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ خاص طور پر تب جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خمینی زندہ تو ہیں، لیکن شدید زخمی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ مجتبیٰ خمینی نئے سپریم لیڈر بننے کے بعد اب تک عوامی طور پر نظر نہیں آئے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز ریڈیو کے انٹرویو کے دوران مجتبیٰ خمینی کی صحت سے متعلق سوال پر پہلی بار ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر زندہ تو ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ زخمی ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ان خفیہ رپورٹس کی طرف اشارہ کرتا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ-اسرائیل کے ابتدائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے اور مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے۔
برطانوی اخبار 'دی سن' نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خمینی کوما میں ہیں اور انہوں نے حملے میں اپنا ایک پیر کھو دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کا علاج سخت سیکیورٹی کے درمیان تہران کے سینا یونیورسٹی ہسپتال میں جاری ہے۔
مجتبیٰ خمینی کی پہلی ردعمل:
ایران کے نئے سپریم لیڈر کی حیثیت سے مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا رد عمل جمعرات کو آیا ۔جسے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔ تاہم پیغام انہوں نے خود نہیں، بلکہ ایک اینکر نے پڑھا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے امریکہ کو سخت تنبیہ دی۔ قوم کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز بند رہے گا۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات پر زور دیا، لیکن امریکی ٹھکانوں پر حملوں کی پالیسی جاری رکھنے کی بات کی۔