آسام میں انسداد تعدد ازدواج بل کی منظوری کے بعد، لکھنؤ اسلامک سینٹرکے چیئرمین مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ ایک سے زیادہ شادیوں کا تصوراسلامی پرسنل لاء کا لازمی حصہ ہے۔مولانا فرنگی محلی نے کہا: " بھارت کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ مذہبی آزادی ایک بنیادی حق ہے، اور ہر کمیونٹی کو عقیدے سے متعلق معاملات میں اپنے پرسنل لا پر عمل کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔"
ایک سے زائد شادیوں کا تصور اسلام کا حصہ
مولانا نے مزید کہا کہ اسلام جہاں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت دیتا ہے وہیں اس میں سخت شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا، "ایک سے زیادہ شادیوں کا تصور اسلامی پرسنل لاء کا ایک لازمی حصہ ہے، لیکن اسلام اس کے لیے بہت سخت ہدایات بھی دیتا ہے۔"
اکثریتی برادری میں ایک سے زائد شادیاں
اعداد و شمار کے رجحانات کا حوالہ دیتے ہوئے، مولانا نے مزید کہا: "اگر آپ زمینی حقیقت پر نظر ڈالیں تو، اقلیتی برادری کے مقابلے اکثریتی برادری میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے افراد کا فیصد زیادہ ہے۔"
آسام میں تعداد ازدواج پر پابندی
آسام اسمبلی نے جمعرات کے روز تعدد ازدواج پر پابندی لگانے کا بل منظور کیا، جس سے اسے سات سال تک قید کی سزا کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاتون کو معاوضہ دینے کی شرط بھی شامل ہے۔
یکساں سول کوڈ کی طرف بڑھتے قدم
چیف منسٹر ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ آسام امتناع تعدد ازدواج بل 2025، ریاست میں نئی قانون سازی لانے کی طرف پہلا قدم ہے، جو اتراکھنڈ اسمبلی سے منظور شدہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل کے مطابق ہے۔
دوسری شادی پر7سے10سال کی قید
بل کی دفعات کے تحت، کوئی بھی شخص غیر قانونی طور پر دوسری شادی کرنے کا مرتکب پایا گیا جب کہ پہلی شادی اب بھی برقرار ہے، اسے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی شخص جو موجودہ شادی کو چھپاتا ہے اور دوبارہ شادی کرتا ہے اسے 10 سال قید اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس قانون میں ایس ٹی اور دیگر کوچھوٹ
تاہم، یہ آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت درج فہرست قبائل اورعلاقوں کو خارج کرتا ہے، جو شمال مشرقی ریاستوں میں قبائلی علاقوں کو خود مختاری دیتا ہے۔
بل میں'کثرت ازدواج' کو کسی دوسرے شخص سے شادی کرنے یا شادی کرنے کےعمل کے طور پربیان کیا گیا ہے جب فریقین میں سے کسی ایک کی پہلے سے ہی شادی شدہ ہو یا زندہ شریک حیات جس سے وہ قانونی طور پر طلاق یافتہ نہ ہو، یا ان کی شادی کو قانونی طور پر منسوخ یا کالعدم قرار نہ دیا گیا ہو۔