اسرائیلی فوج نےایک بار پھر ملک شام پر ظالمانہ حملہ کیا ہے ،جس میں 13 افراد کی جان چلی گئی ہے۔یہ حملہ دار الحکومت دمشق کے مضافات میں واقع قصبے بیت جن پر فضائیہ اور توپ خانے کے ذریعے کیا گیا۔جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔یہ حملہ حالیہ مہینوں کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابقیہ حملہ اس وقت ہوا جب قصبے کے رہائشیوں اور اسرائیلی فوجی دستے کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔شامی ٹیلی وژن کے مطابق اسرائیلی حملے کے بعددرجنوں خاندان گاؤں بیت جن چھوڑ کر قریبی علاقوں میں محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
مقامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیت جن کے رہائشیوں نے اسرائیلی فوجیوں کا سامنا کیا جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فضائی حملے بھی کیے گئے۔ شام کی وزارت خارجہ نے اس کاروائی کو اسرائیل کی طرف سے کیا گیا جنگی جرم قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کیا کہا؟
اسرائیل ڈیفنس فورسز (IDF) نے کہا کہ اس کے فوجی گولان کی پہاڑیوں کے قریب واقع گاؤں میں گئے تھے، تاکہ ان عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا جا سکے جو اسرائیلی شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ آئی ڈی ایف کے مطابق جھڑپوں میں چھ فوجی زخمی ہوئے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس نے جمعے کی کاروائی میں عسکریت پسند گروپ کو نشانہ بنایا۔ فوج کا کہنا ہے کہ چھاپہ شروع ہوتے ہی کئی مسلح افراد نے فائرنگ شروع کردی جس سے فوجیوں نے جوابی فائرنگ کی۔
اطلاعات کے مطابق اس دوران گاؤں پر گولے بھی برسائے گئے۔ IDF کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو میں دو فضائی حملے دکھائے گئے ہیں: ایک گروپ پر اور دوسرا عمارت پر۔ فوج کی جانب سے جاری کردہ باڈی کیم فوٹیج میں فوجیوں کو اندھیرے میں فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کہ دور تک گولیوں کی مسلسل آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
خواتین اور بچوں کی بھی ہوئی موت:
رپورٹس کے مطابق ہسپتال میں متعدد لاشیں لائی گئیں جن میں سے پانچ کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ ڈائریکٹر نے یہ بھی بتایا کہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔شامی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں سمیت 10 سے زائد شہری اس حملہ میں ہلاک ہوئے ہیں ۔ وزارت نے اسرائیل پر صریحاً جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسی کو روکنے کے لیے کاروائی کرے۔