عید الفطر کے موقع پر اپنے پیغام میں امیر جماعت اسلامی ہند نے فرمایا کہ "میں تمام مسلمانوں کو اور ملک میں رہنے والے تمام بھائیوں اور بہنوں کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ عید الفطرقرآن کا جشن ہے۔ یہ قرآن مجید کے نزول، اس سے تعلق و وابستگی اور اس کی تعلیمات پر عمل آوری کی کوشش کا جشن ہے۔ یہ اللہ کی عطا کی ہوئی کتاب ہدایت اور رہنمائی پرشکر اور خوشی مسرت کے اظہار کا موقع ہے۔"
اس موقع پر آپ نے مزید فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک میں قرآن مجید نازل فرمایا اور اس ماہ کو قران کی تعلیمات پر عمل کی ایک خاص ٹریننگ کے لیے مختص کردیا ہے۔ مسلمان اس مہینے میں کثرت سے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ رات میں گھنٹوں نماز میں ٹہر کرپورا قرآن سنتے ہیں۔ قرآن کے پیغام اور اس کی تعلیمات کو یاد کرتے ہیں اور پھر روزے کے ذریعے تقویٰ، قوت ارادی، اور ضبط نفس پیدا کرتے ہیں۔ یہ وہ صفات ہیں جو قرآن کی تعلیمات پر عمل کے لیے ضروری ہیں۔مسلمانوں کی کوشش ہوتی ہےکہ اس ایک ماہ کی مشق کے ذریعے ان کی زندگیاں قرآنی تعلیمات کے رنگ میں رنگ جائیں۔ عید الفطر اسی ایک ماہ کے منفرد ٹریننگ کورس کی تکمیل کا جشن ہے۔ عید الفطراس کورس کا اختتام نہیں بلکہ اس کی برکتوں کو عملی زندگی میں اختیار کرنے کے عہد کا دن ہے۔ ایک نئی ، بہتر ،زیادہ پاکیزہ ، زیادہ متقیانہ زندگی کی شروعات کا دن ہے۔"
سید سعادت اللہ حسینی نے رمضان کے حاصلات پر گفتگو کدتے ہوئے فرمایا کہ "رمضان تینوں پہلووں سے ہماری تربیت کرتا ہے۔ ایک طرف رمضان میں ہم صرف اللہ کی خاطر بھوک اور پیاس کی مشقت برداشت کرتے ہیں اور اللہ کی سچی محبت، اس کے لیے جان نثاری اور اس کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے جذبے کی افزائش کرتے ہیں۔ دوسری طرف ہم اپنے نفس کی تربیت کرتے ہیں اور ضبط نفس، اپنی خواہشات کو کنٹرول میں رکھنے اور اپنے جذبات کوقابو میں رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں اور تیسری طرف بھوک اور پیاس کو محسوس کرکے اور رمضان میں خصوصی صدقہ و خیرات کے ذریعے اللہ کے دیگر بندوں کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کے متعلق حساس ہوجاتے ہیں۔عید کے دن بھی صدقۂ فطر (فطرانہ) کے ذریعے ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ معاشرے کا کوئی فرد عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ عید الفطر یہ عہد کرنے کا موقع ہے کہ باقی دنوں میں بھی ہم ان تینوں پہلووں سے اپنی شخصیتوں کو کمال کی طرف لے جانے کی مسلسل سعی کرتے رہیں گے۔"
اپنے پیغام کہ اختتام پر حالات حاضرہ پر گفتگو کدتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ "ہم عید الفطر ایک ایسے وقت میں منا رہے ہیں جب عالمِ اسلام شدید آزمائشوں اور بے یقینی کے دور سے گزر رہا ہے، اور ایک تباہ کن جنگ دنیا پر مسلط کردی گئی ہے۔ ایسے حالات میں جو لوگ ظلم ،استبداد اور استعمار کے خلاف ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کمزور و مظلوم اقوام کی نمائندگی کرتے ہوئے استعماری قوتوں کی مزاحمت کر رہے ہیں، ہم ان کی ہمت و حوصلہ مندی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے حق میں دعاگو ہیں۔
ہم پوری امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق اور باہمی ہم آہنگی کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اس بات کی اپیل کرتے ہیں کہ اس نازک صورتِ حال کو مسلمانوں یا مسلمان ملکوں کے درمیان باہمی تنازع یا علاقائی کشمکش میں بدلنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے۔ ہم ایران اور تمام عرب ممالک کے عوام کی سلامتی، استحکام اور خوش حالی کے لیے دعاگو ہیں، اور امید کرتے ہیں کہ یہ کشیدگی جلد ختم ہوگی اور خطے میں پائیدار امن وامان کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ اس موقعے پر ہم اپنے ملک اور یہاں کے عوام کی ترقی ، خوشحالی اور امن و امان کی دعا کرتے ہیں۔ مختلف فرقوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھائیوں اور بہنوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ آیئے ہم سب مل کر اس ملک میں امن و امان اور عدل و انصاف کی فضا کو عام کریں اور یہاں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے لیے مل جل کر جدوجہد کریں۔