Saturday, February 28, 2026 | 10 رمضان 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • یو جی سی ضوابط پر طلبہ مارچ، کیمپس کے دروازے بند، 14 طلبہ گرفتار

یو جی سی ضوابط پر طلبہ مارچ، کیمپس کے دروازے بند، 14 طلبہ گرفتار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Feb 28, 2026 IST

یو جی سی ضوابط پر طلبہ مارچ، کیمپس کے دروازے بند، 14 طلبہ گرفتار
نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلبہ کی گرفتاری کے معاملے پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے ’آل انڈیا پروٹیسٹ ڈے‘ منانے کا اعلان کیا۔ یونیورسٹی کیمپس میں جمعہ کو طلبہ نے وائس چانسلر کے مبینہ ذات پات پر مبنی ریمارکس کے خلاف احتجاج  کیا۔ اور وی سی کا علامتی پتلہ نذرِ آتش کیا۔ احتجاجی مطاہرین نے دہلی پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔
 
طلبہ کا الزام ہے کہ یو جی سی ضوابط کے نفاذ کے مطالبے پر نکالی گئی ریلی کے دوران پولیس نے کیمپس کے دروازے بند کر دیے اور مارچ کرنے والے طلبہ کو حراست میں لیا۔ ایک طالب علم کے مطابق، جب مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور لاٹھی چارج کیا گیا، ۔۔جسے طلبہ نے پولیس ظلم قرار دیا ہے۔ طلبہ تنظیم نے زیرِ حراست 14 طلبہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
 
پولیس اہلکاروں پر بینر، ڈنڈے اور جوتے پھینکے گئے
 
پولیس کے مطابق مظاہرے کے دوران بیریکیڈز کو نقصان پہنچایا گیا اور بعض پولیس اہلکاروں پر بینر، ڈنڈے اور جوتے پھینکے گئے۔ دھکم پیل میں ایس ایچ او کشورگڑھ سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے Safdarjung Hospital منتقل کیا گیا۔
 
صورتِ حال بگڑنے پر پولیس نے طلبہ رہنماؤں اور دیگر مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں تحقیقات کی بنیاد پر طلبہ یونین کی صدر ادیتی مشرا سمیت 14 طلبہ کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
 
طلبہ کے الزامات اور انتظامیہ کا مؤقف
 
طلبہ یونین کی صدر ادیتی مشرا کا الزام ہے کہ وہ پُرامن مارچ کر رہے تھے، لیکن سادہ لباس میں موجود افراد نے انہیں زبردستی حراست میں لے لیا۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے پورے کیمپس کا گھیراؤ کر رکھا تھا اور کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ یہ احتجاج جامعہ کی وائس چانسلر  کے مبینہ بیان کے خلاف کیا جا رہا تھا۔
 
دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یو جی سی قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ مناسب نہیں، کیونکہ اس معاملے پر سپریم کورٹ پہلے ہی حکمِ امتناعی جاری کر چکی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق کارروائی کی بنیاد کیمپس میں عوامی املاک کو نقصان اور تشدد کے واقعات ہیں، جن کی تحقیقات پروکٹوریل عمل کے تحت کی گئی ہیں۔