Tuesday, January 13, 2026 | 24, 1447 رجب
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مسلم بستی ہٹانے کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی جمیعت ،جانیے پورا معاملہ؟

مسلم بستی ہٹانے کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی جمیعت ،جانیے پورا معاملہ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 13, 2026 IST

مسلم بستی ہٹانے کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی جمیعت ،جانیے پورا معاملہ؟
جمیعت علمائے ہند نے اتراکھنڈ میں ایک مسلم بستی کو ہٹانے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ جمیعت کی ہلدوانی یونٹ نے متاثرہ خاندانوں کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔دائر درخواست میں بستی کو ختم کرنے کے حکم کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا گیا ہے۔ درخواست جمعیت کے سربراہ مولانا ارشد مدنی کے حکم پر دائر کی گئی ہے۔
 
معاملہ کیا ہے؟
 
بتا دیں کہ اتراکھنڈ کے ہلدوانی علاقے میں بڑی تعداد میں مسلم آبادی ہے۔جہاں  ریلوے کا دعویٰ ہے کہ پوری زمین ان کی ہے اور لوگوں نے اس پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تاہم، مسلم کمیونٹی کا موقف ہے کہ ہندوستان کی آزادی سے پہلے بھی وہاں 50 ہزار سے زائد مسلمان رہائش پذیر تھے۔ اچانک ریلوے نے انہیں زمین خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا۔ اس کے بعد معاملہ عدالت میں پہنچا، لیکن فیصلہ ان کے حق میں نہیں آیا۔ اب جمیعت علمائے ہند نے سپریم کورٹ کا سہارا لیا ہے۔
 
سپریم کورٹ میں دائر عرضی کے مطابق ، لوگ آزادی سے پہلے سے اس بستی میں رہ رہے ہیں اور اس وقت آبادی تقریباً 50 ہزار تھی۔ الزام ہے کہ بغیر کسی متبادل انتظام یا بحالی کے منصوبے کے اس پوری آبادی کو بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے مرکز اور اتراکھنڈ حکومت کو بستی میں رہنے والے لوگوں کے بحالی کے لیے ایک واضح منصوبہ بنانے کا حکم دیا تھا۔
 
حالیہ سماعت:
 
حال ہی میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ریکانت اور جسٹس جے کے کی بنچ کے سامنے اس معاملے کی سماعت ہوئی،جس میں جمیعت علمائے ہند کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو بتایا کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے 20 دسمبر 2022 کو ایک طرفہ فیصلہ سنایا تھا، جس میں ریلوے کی ملکیت قرار دی گئی زمین پر رہنے والے 50 ہزار سے زائد لوگوں کو ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ فیصلہ غیر قانونی ہے کیونکہ متاثرہ لوگوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔
 
گورو اگروال نے یہ بھی کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ریلوے نے خود اس زمین کے بارے میں کوئی عرضی دائر نہیں کی۔ اس کے بجائے یہ معاملہ ایک مقامی سماجی کارکن کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی کے ذریعے ہائی کورٹ تک پہنچا، جس کی وجہ سے اتنا اہم اور سنجیدہ فیصلہ آیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بے دخلی کا حکم آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس سے ہزاروں لوگوں کی زندگی اور معاش براہ راست متاثر ہوتا ہے۔
 
انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ چونکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، اس لیے اس نئی درخواست کی سماعت اس کے ساتھ مل کر کی جائے۔ چیف جسٹس نے درخواست منظور کرتے ہوئے اسے پہلے سے زیر التوا درخواست کے ساتھ ٹیگ کرنے کا حکم دیا۔ جمعیۃ علماء ہند نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے اپنی قانونی جنگ جاری رکھے گی اور کسی بھی قیمت پر ہزاروں لوگوں کو بحالی کے بغیر بے گھر ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔